کتاب: تربیت اولاد - صفحہ 217
آپ کیا چاہتی ہیں ۔ سوچئیے کہ آپ کا اصل مسئلہ کیا ہے۔ پھر غور کریں کہ اس مسئلہ کا حل کیا ہے۔ اس دور میں بعض اوقات بچے آپ کی بات نہیں سنتے ، اَن سنی کردیتے ہیں ۔ ان کے اندر Hormonal Change آرہی ہوتی ہیں ۔جس سےوہ بہت غصہ بہت کرنے لگ جاتے ہیں تو ان سے بڑی سمجھ داری کے ساتھ نبٹیں ۔
کچھ باتیں ایسی ہیں جن پرcompromise نہیں کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً عقیدہ، حرام و حلال کی حدیں ، آپ نے اُن کی ایمانی تربیت کی ہے تو ان شاءاللہ مسئلہ آسان ہوگا۔یہ تربیت اگر بچپن میں ہو گئی تو اس کی بنیاد ہوگی ورنہ مسائل خاصے مشکل ہو جائیں گے لیکن اس مشکل میں گھبرانا نہیں ہے۔ چند اصولوں کا خیال رکھیں ۔ ان شاء اللہ آپ کامیاب ہوں گی۔
اس عمر میں بچوں کو خاص طور پر بگڑے بچوں کوبھرپور توجہ دیں ۔انسان ہمیشہ محبت کا بھوکا ہوتا ہے چاہے وہ بوڑھا ہی کیوں نہ ہو جائے اور ماں کے پاس محبت ، مامتا کا خزانہ موجود ہے۔اس نے سکول، کالج جانا ہے، واپس آنا ہے، آرام کے اوقات، امتحانات ان سب اوقات میں آپ کی توجہ اور محبت بگڑنے سے بچالے گی اور اگر وہ بگڑ بھی گیا ہے تو اصلاح واپس لے آئے گی۔ بس احتیاط یہ کریں کہ ان اوقات میں ان کو سمجھانے کی کوشش کریں لیکن لیکچر نہ دیں ۔وہ چڑے گا، اوّل توسنے گا ہی نہیں ، سُن لے گا تو اثر نہیں لے گا۔آپ اُس کی باتیں سنیں ،کم بولیں ،زیادہ سنیں ۔ عام طور پر بچوں کی فرسٹریشن بولنے سے، ماں کو سنا کر کم ہوجاتی ہے۔درمیان میں کہیں کہیں گائیڈکردیں ۔ اس کمیونیکشن کا بہت فائدہ ہوگا۔آپ اس کے مسائل سے آگاہ ہوں گی وہ کیوں ایسے کر رہا ہے۔ ہو سکتا ہے وہ اپنے دوستوں کے سامنے اپنے آپ کو مالی طور پر کم محسوس کر رہا ہو۔ اس کے ریزلٹ اچھے نہ آرہے ہوں ۔وہ کلاس میں adjust نہیں ہو رہا۔وجوہات سمجھنے کے بعد مسئلہ حل کرنے کی کوشش کریں ۔ بچہ غلط چل رہا ہے، اس سے محبت میں کمی نہ کریں بلکہ اضافہ کردیں ۔ ساتھ ساتھ برائی بھی بتاتی جائیں ، برائی کو pin point کریں ۔بعض اوقات ہم عمومی نصیحتیں کر رہے ہیں کہ تمہیں نیکی کرنی چاہیے۔