کتاب: تربیت اولاد - صفحہ 212
کسی آدمی کے اچھا ہونے کا پیمانہ ایک ہی ہے کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ کیسا ہے ؟اور کسی عورت کے اچھا ہونے کا پیمانہ ایک ہی ہے کہ اپنے شوہر کے ساتھ کیسی ہے؟ بچوں کی خاطر ماں باپ اپنے لڑائی جھگڑے کو کنٹرول کریں ۔ جب بچے اپنے ماں باپ کو لڑائی جھگڑا کرتے دیکھتے ہیں تو سہم جاتے ہیں رونے لگ جاتے ہیں ۔ بچوں کو سمجھ نہیں آتی کہ ماں کی حمایت کریں یا باپ کی۔ نفسیاتی طور پر بچوں کی موجودگی میں جب باپ چیخ رہا ہوتا ہے تو بچے احساس جرم کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ بچے سوچ رہے ہوتے ہیں کہ ماں پر زیادتی ہو رہی ہے اور ہم اپنی ماں کی کوئی مدد نہیں کر پا رہے۔ بچے محسوس کر رہے ہوتے ہیں باپ ماں پر زیادتی کر رہا ہے۔ اس طرح باپ کی نفرت دل میں بیٹھ جاتی ہے اور خاندان ٹوٹ جاتا ہے۔تربیت کرنے کی بنیادی ذمہ داری باپ کی ہے کیونکہ نسل اس کی ہے۔
’’ اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ۔‘‘ (التحریم : 6)
مرد کو اللہ نے قوام اور ذمہ دار ٹھہرایا ہے اور عورت تو شوہر کے ماتحت ہے۔ اس لیے اولاد کا اصل ذمہ دار باپ ہے۔ طلاق کے بعد بھی بچوں کی ذمہ داری باپ کی ہے۔
’’عورتوں کے بارے میں نیکی کرنے کی نصیحت قبول کرو کیونکہ ان کو پسلی سے پیدا کیا گیا ہے۔اور پسلی میں سے سب سے ٹیڑھی اوپر والی پسلی ہوتی ہے اگر تو اس کو سیدھا کرنے لگے تو اس کو توڑ دے گا اور اگر تو اس کو چھوڑ دے گا تو پسلی ٹیڑھی ہی رہتی ہے۔‘‘[1]
لہٰذا مردوں نے عورتو ں کی ٹیڑھ کے باوجود نیک سلوک کرنا ہے۔ صحابہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان احکامات پر کس طرح عمل کرتے تھے۔ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اپنی بیوی کی شکایت لے کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ ان کے گھر معاملہ بھی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے زیادہ فرق نہ تھا۔ واپس چل پڑے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا بات ہے؟
[1] صحیح بخاری : 5186.