کتاب: تربیت اولاد - صفحہ 211
اور دو طلاقیں ہو چکنے کے بعد دوبارہ نکاح بھی کیا جا سکتا ہے۔ الطلاق مرتان سےیہی مراد ہے۔ ہاں جب تیسری مرتبہ طلاق کا لفظ منہ سے نکالے گا تب رجوع کرنے کا حق نہیں ہے۔ شریعت نے اس سلسلے میں بہت حکمت سے کام لیا۔ تاکہ میاں بیوی کا گھر بس سکے۔ طلاق خواہ اچھے طریقے سے ہی دی جائے مگر بچے پر اس کے برے اثرات تو پڑتے ہیں جو بچے ماں کے پاس ہوتے ہیں وہ باپ کی شفقت سے محروم ہو جاتے ہیں اور جو باپ کے پاس ہوتے ہیں وہ ماں کی محبت سے محروم ہو جاتے ہیں ۔ بعض اوقات ماں ان کے دل میں اتنی نفرت بھر دیتی ہے کہ وہ بڑے ہو کر باپ کی شکل دیکھنا گوارا نہیں کرتے اور کبھی باپ بچوں کے دل میں ان کی ماں کے خلاف نفرت بھر دیتا ہے کہ وہ ماں سے مل نہیں پاتے۔ یہ سب چیزیں بچوں پر شدت سے اثر انداز ہوتی ہیں ۔ اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے مستقبل کی خاطر اپنے چھوٹے موٹے اختلاف ختم کر لیں اس طرح نئی نسل بگاڑ سے بچ جاتی ہے۔ دونوں کوشش کریں ۔ عورت کو چاہیےکہ وہ خاوند کے لیے زیادہ سے زیادہ نیکی کرنے والی ہو اور مرد بھی بیوی کے ساتھ اچھا رویہ رکھے اسی لیے شریعت نے عورت کو حکم دیا ہے کہ اگر وہ دن میں پانچ نمازیں پڑھ لے اور رمضان کے روزے رکھ لے اور خاوند کی اطاعت کر لے اپنی عزت کی حفاظت کر لے تو وہ جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جس دروازے سے چاہے داخل ہو جائے۔[1] ’’ جو عورت فوت ہو جائے اور اس کا خاوند اس سے راضی ہو وہ جنت میں جاتی ہے۔‘‘[2] ’’تم میں سے بہترین آدمی وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے اچھا ہے اور میں تم میں سے اپنے گھر والوں کے لیے سب سے اچھا ہوں ۔‘‘[3]
[1] الترغیب، کتاب النکاح : 2970. [2] سنن ترمذی : 1161. [3] سنن ترمذی : 3895.