کتاب: تربیت اولاد - صفحہ 210
کی سیرت پڑھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ان پر ہاتھ نہیں اٹھایا کبھی ناراض نہ ہوئے بلکہ ناراضگی کی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےخود ایلاکر لیا۔ گھر کی تمام سہولتوں سے خود کو الگ کر دیا۔ علیحدہ ہو کر پورا ایک ماہ مسجد کے بالا خانہ میں رہے۔اس کے بعد ازواج نے کبھی ا ٓپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شکایت کا موقع نہ دیا۔
ایک اور حل قرآن نے بتایا ہے کہ اگر میاں بیوی کا مسلہ حل نہیں ہو رہا تو عورت کے خاندان میں سے ایک ثالث اور مرد کےخاندان میں سے ایک ثالث مقرر لر لیا جائے۔ میاں بیوی دونوں ان کے مسائل بتا دیں اور وہ دونوں مل کر ان کے مسائل کو حل کریں
’’اور اگر تم ان دونوں کے درمیان مخالفت سے ڈرتے ہو تو ایک مرد کے گھر والوں میں سے ثالث مقرر کر لو اور ایک عورت کے گھر والوں میں سے ثالث مقرر کر لو۔ اور اگر وہ میاں بیوی آپس میں اصلاح چاہتے ہوں گے تو اللہ ان دونوں کے درمیان موافقت پیدا کر دے گا، کیونکہ اللہ جاننے والا خبر دار ہے۔‘‘ (النساء : 35)
ہاں تمام اقدامات سے کچھ نہ بنے تو مرد کو اختیار ہے کہ وہ عورت کو طلاق دے دے۔ اسی طرح عورت کو بھی اختیار ہے کہ اگر وہ چاہیے تو مرد سے خلع لے لے۔ لیکن اس طلاق دینے کے طریقے میں بھی اللہ نے گنجائش دے دی کہ مرد ایک بار طلاق دے دے پھر تین حیض کی عدت ہوگی۔
اس عدت کی مدت کے دوران عورت مرد کے گھر رہے گی تاکہ صلح کے مواقع مل سکیں ۔ اگر عدت کے دوران مرد صلح کرنے پر آمادہ ہوا تو شریعت اس کو اجازت دیتی ہے کہ طلاق مکمل ہونے کے بعد دوبارہ اس کو نکاح کا پیغام بھیج سکتا ہے۔ یہ اجازت اس کو شریعت نے دوسری طلاق کے دوران بھی دی ہے۔ دوسری طلاق کے بعد بھی دوبارہ نکاح کی اجازت دی ہے۔ یعنی شریعت چار موقعے دیتی ہے کہ دو طلاقوں کے بعد عدت کے دوران صلح کی جاسکتی ہے۔