کتاب: تربیت اولاد - صفحہ 208
داری آجاتی ہے۔ شریعت نے بچوں کی کفالت کی ذمہ داری بچوں کے دودھیال پر رکھی ہے مگر ہمارے معاشرے میں ایسا نہیں ہوتا اور ساری ذمہ داری عورت اور اس کے خاندان پر آجاتی ہے۔ اگر ننھیال والے کھاتے پیتے ہوں تو بیٹی اور اس کی اولاد کو سنبھال لیتے ہیں ۔ اور اگر وہ غریب ہوں تو عورت کو بچوں کوکما کرکھلانا بھی پڑتا ہے۔ جب ماں کمانے کے لیے نکل جاتی ہے تو بچے آوارہ ہو جاتے ہیں ۔ اگر وہ ان کی خاطر کسی سے شادی کر لے تو مصیبت اور اگر نہ کرے تو مصیبت۔ ہمارے گھروں میں جو عورتیں کام کرتی ہیں وہ صبح سے شام تک کرتی ہیں پھر شام کوجب گھر جاتی ہیں تب تک اس کےبچے گلیوں میں پھر پھر کر آوارہ ہو چکے ہوتے ہیں ۔
بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے۔باپ زندہ ہوتا ہے اور ماں مر جاتی ہے۔ اگر باپ نے دوسری شادی نہ کی اور بچوں کی تربیت، کفالت خود کی ان کو ماں اور باپ دونوں کا پیار دیا تو بچے باپ کاایثار اور قربانی دیکھ کربگڑتے نہیں ، لیکن عام طور پر ایسا نہیں ہوتا اور باپ دوسری شادی کر کے بیوی کی آنکھوں سے دیکھنے لگ جاتا ہے۔ وہ یہ سوچتا ہی نہیں کہ یہ میرےبچے ہیں اور اللہ نے یہ ذمہ داری مجھ پر ڈالی ہے۔ جو بیوی پٹی پڑھاتی ہے وہ وہی کرتا ہے۔ بیوی الگ زیادتی کرتی ہے۔ ماں تو پہلے ہی نہیں رہتی پھر باپ بھی ان کا نہیں رہتا۔ یوں بچے بگڑ جاتے ہیں ۔
اب ان حالات میں ہمارے دین نے یتیم سے حسن سلوک کا حکم دیا ہےکہ یتیم پر سختی نہیں کرنی چاہیے۔
سورۃالماعون میں ہے: کیا تو نے ایسے شخص کو نہیں دیکھا جو قیامت کو جھٹلاتا ہے یہی یتیم کو دھکے دیتا ہے۔
یہ کردار صرف اس شخص کا ہو سکتا ہے جو قیامت پر ایمان نہیں لاتا۔
’’میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم