کتاب: تقاریر وخطابات سید ابوبکر غزنوی - صفحہ 65
ہوئے وظیفے حضور کے بتائے ہوئے وظیفوں سے افضل ہیں۔ جبھی تو وہ یوں دیکھ رہے ہیں کہ یہ تم نے کیا بتا دیا؟اس پر ایمان ہونا چاہیے کہ حضور کے بتائے ہوئے وظیفے تمام اولیاء کے بتائے ہوئے وظیفوں سے اولیٰ اور افضل ہیں۔ جب تک یہ ایمان نہیں ہو گا اس وقت تک بارگاہ رسالت میں ادب ناقص رہے گا۔ ہاں اس میں کوئی شک نہیں کہ جن وظیفوں کو اولیاء اللہ نے کمایا ہے ان پر ان وظائف کے انوار نازل ہوتے ہیں اور ان کی صحبت سے وہ انوار بڑی سہولت سے منعکس ہونے لگتے ہیں۔ اس لیے اس بارے میں افراط و تفریط کا راستہ اختیار نہ کرنا چاہیے۔ فرماتے ہیں۔ (( فَاذْكُرُونِي))تم میری یاد میں لگ جاؤ۔ اور یاد میں اس طرح لگ جاؤ۔ جس طرح حضور کے ذریعے میں نے سکھا دیا ہے۔ (( أَذْكُرْكُمْ)) میں تمہیں یاد کروں گا اور یوں آپس میں ہمارا تعلق قائم ہونے لگے گا۔ دیکھیے حدیث قدسی ہے : کہ جو شخص مجھے خلوت میں یاد کرتا ہے میں اسے جلوت میں یاد کرتا ہوں۔ جو مجھے محفل میں یاد کرتا ہے، میں اس سے بہتر محفل میں یاد کرتا ہوں یوں اللہ سے تعلق پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ جو وعدے اللہ تعالیٰ نے فرمائے ہیں اور ذکر کے بعد جو نتیجے مرتب کرنے کا ذکر فرماتے ہیں، انہیں غور سے پڑھنا چاہیے۔ (( فَاذْكُرُونِي)) ذکر کرو گےتو کیا حاصل ہو گا؟واضح طور پر کیا۔ (( أَذْكُرْكُمْ)) میں بھی تمھیں یاد کیا کروں گا۔ دیکھیے یہ کتنی اہم بات کہ جب اللہ کہتے ہیں یہ کام کرو تو اس سے یہ نتیجہ مرتب کروں گا۔ یہ نہیں کہا تم مجھے یاد کرو گے تو تمھیں کشف ہونے لگے گا۔ یہ نہیں کہا کہ مجھے یاد کروگے تو نہیں تصرف کی طاقت دے دوں گا۔ اس سے جو معاہدہ ہوا ہے اس کی شرائط کو غور سے دیکھنا چاہیے اور اس معاہدے کی روشنی میں ہی اُمیدیں باندھنی چاہئیں ۔ اگر کوئی شخص اس معاہدے سے ہٹ کر اپنے جی سے گھڑ گھڑ کر