کتاب: تنقیح الکلام فی تایید توضیح الکلام - صفحہ 164
سے کثرت خطاکی پوزیشن ہی کیا رہی اور یہ بات تو کسی سے مخفی نہیں کہ نقد و جرح میں جو مقام امام احمد رحمہ اللہ اور مسلم رحمہ اللہ کا ہے وہ اسحاق بن احمد بن خلف البخاری کا نہیں ۔ ان کے نام کے ساتھ بلاشبہ ’’الحافظ‘‘ لکھا ہوا ہے مگر متداول کتب میں ان کا کہیں ترجمہ نہیں ملا۔ صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ وہ امام بخاری رحمہ اللہ کے تلمیذ ہیں(التہذیب للمزی ص ۸۶ج ۱۶، الارشاد ج ۳ ص ۹۵۸) علامہ ذہبی رحمہ اللہ اور علامہ سخاوی رحمہ اللہ نے انھیں ائمہ جرح و تعدیل میں شمار ہی نہیں کیا۔ اس لیے امام احمد رحمہ اللہ وغیرہ کے مقابلے میں ان کے قول کی حیثیت ہی کیا ہے؟ والله سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔ اس ضمن میں ڈیروی صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ اثری صاحب نے نقل کیا ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عکرمہ رحمہ اللہ ثقہ ہے حالانکہ امام بخاری رحمہ اللہ نے ثقہ نہیں کہا بلکہ امام بخاری رحمہ اللہ سے یہ منقول ہے کہ عکرمہ رحمہ اللہ یحییٰ بن ابی کثیر رحمہ اللہ کی روایت میں مضطرب الحدیث ہے اوراس کے پاس کتاب نہ تھی۔‘‘ بلاریب صراحۃً امام بخاری رحمہ اللہ سے توثیق منقول نہیں۔ اسی لیے دوسرے ایڈیشن میں ہم نے امام بخاری رحمہ اللہ کا نام حذف کر دیا ہے تاہم امام بخاری نے عکرمہ کی یحییٰ بن ابی کثیر سے روایات میں اضطراب قرار دیا ہے۔ اور زیر بحث روایت عکرمہ ، یحییٰ سے نہیں بلکہ عمرو بن سعد سے روایت کرتے ہیں۔ہمارا یہ موقف قطعاً نہیں کہ عکرمہ رحمہ اللہ پرکسی نے کلام نہیں کیا، لہٰذا ڈیروی صاحب کا امام بیہقی رحمہ اللہ کاکلام نقل کرنا بے سود ہے، بلکہ اس بات کی وضاحت مطلوب ہے کہ عکرمہ رحمہ اللہ کو جمہور محدثین نے ثقہ و صدوق کہا ہے۔ البتہ یحییٰ بن ابی کثیر کی روایت میں وہ مضطرب اور ضعیف قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح اس کی روایت اگر دیگر ثقات کے مخالف ہو تو وہ روایت بھی مقبول نہ ہوگی۔ صفدر صاحب کی تضاد بیانی حیرت تو یہ ہے کہ احسن الکلام میں مولانا صفدر صاحب عکرمہ رحمہ اللہ کی تضعیف بیان کرتے ہیں مگر ازالۃ الریب (ص ۲۰۸) میں مستدرک حاکم (ج ۱ ص ۷) کے حوالہ سے ایک روایت نقل کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کا علم، غیب ہے ۔ اور غیب کو الله تعالیٰ کے بغیر او رکوئی نہیں جانتا اور اس کے بارے میں یہ بھی نقل کرتے ہیں : ’’ قال