کتاب: تلاش حق کا سفر - صفحہ 90
آرہے ہیں ۔ نو بیاہی عورتیں عاشورہ اپنے میکے میں گزارتی ہیں ۔ تعزیوں کے نیچے سے بچوں اور بیماروں کو گزارا جاتا ہے جو رسم بُت پرستی سے کم نہیں ہے ۔ سبیلوں کا وہ پانی جو غیر اﷲ سے منسوب ہو سراسر فرمانِ الٰہی {وَمَا اُھِلَّ بِہٖ لِغَیْرِاللّٰہ} کی رُو سے وہ پانی نجس اور ناپاک ہوتا ہے ۔ اگر اسلام میں ہر سال ایام مخصوصہ میں سوگ منانا جائز ہوتا تو پھر ہم وفاتِ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا سوگ مناتے ۔ دنیا میں مسلمانوں پر اس غم سے بڑھ کر نہ تو کوئی غم آیا اور نہ آسکے گا۔ رسومات ِ محرّم صرف بدعت ہی نہیں بلکہ شرک کے زمرے میں آتی ہیں ۔ گیارھویں: ربیع الثانی کی گیارہ تاریخ کو بڑے پیر صاحب یعنی شیخ عبد القادر جیلانی ؒ کے نام کی فاتحہ بریانی کی دیگوں پر دلاتے ہیں ، اسی کام سے بہت سارے لوگ بکرے اُنہی کے نام سے پالتے ہیں ۔ اس دوران دین فروش مُلّا ان غیر شرعی محفلوں میں وعظ و بیان کرتے ہیں اور شیخ عبد القادر جیلانی ؒکو عبدیت سے اُٹھا کر مقام ربوبیت اور الوہیت پر بٹھادیتے ہیں ۔ شیخ عبد القادر جیلانی نے اپنی کتاب ’’ غنیۃ الطالبین‘‘ (صفحہ ۱۶۷-۱۷۰) میں ایسی بدعات کو اپنانے والوںکو گمراہ قرار دیا ہے ۔ فیصلہ ان حضرات کو کرنا ہے کہ یا تو وہ اپنے امام صاحب کے ساتھ رہیں یا بڑے پیر صاحب کے ساتھ(امام ابو حنیفہؒ کے شاگرد امام محمد ؒ اور امام ابو یوسف ؒ اپنے استاد کے 1/3مسائل میں انکی مخالفت کرتے ہیں ، جبکہ اخبار الفقیہ کے ٹائٹل پر لکھا ہوا ہے کہ ریت کے ذرّوں کی گنتی کے برابر خدا کی لعنتیں اُس شخص پر ہیں جو امام ابو حنیفہؒ کے قول کو رد کرے ۔ اس صورت میں عبدالقادر جیلانی ، امام محمد اور امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہم کا کیا ہوگا آپ خود فیصلہ کرلیں ) گیارھویں بدعت بھی ہے اور شرک بھی جس میں غیر اﷲ کے نام کے جانور پالے اور ذبح کیئے جاتے ہیں ، اﷲ کا نام لے کر ذبح کرنا کافی نہیں ، دل کی نیت توپیرانِ پیر کی نیاز ہوتی ہے جس سے جانور حرام ہوجاتا ہے ۔ دلیل یہ فرمان ِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :