کتاب: تلاش حق کا سفر - صفحہ 86
(۱) حضرت عبد ﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’ جس نے تین رات سے کم وقت میں قرآن ختم کیا وہ قرآن کو نہیں سمجھا‘‘ ۔(بخاری) (۲)حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نہیں جانتی کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ایک رات میں مکمل قرآن ختم کیا ہو، نہ ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری رات قیام میں گذاری ہو، نہ ہی رمضان کے علاوہ کسی مہینے کے پورے روزے رکھے ہوں۔(مسند احمد۔ابو داؤد) اب ایک رات میں شبینہ کروانا اور اولیاء اﷲکا ایک رات میں کئی کئی قرآن پاک پڑھنا درست ہے یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل و فرمان ؟ فیصلہ غیر جانبدار دل و دماغ سے خود کرلیں۔حقیقت یہ ہے کہ جب بھی کسی قوم نے اپنی طرف بھیجے گئے پیغمبر کی تعلیمات کو جھٹلایا ہے تو پھر وہ ہدایت سے پھر جاتی ہے ۔ اسی طرح اگر آج ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو چھوڑ کر اپنی من مانی کرنا شروع کردیں اور دین میں نئے طریقے وضع کرلیں تو پھر ہدایت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، بلکہ ہر طرف بدعت کے دروازے کھلتے چلے جائیں گے اور یہی وہ چیز ہے جس سے برکات ِالٰہی اٹھ جاتی ہیں ۔ کیونکہ ایک روایت یہ بھی ہے کہ جس جگہ ایک بدعت رائج ہو وہاں سے ایک سنت اٹھالی جاتی ہے ۔اب آپ خود اندازہ لگالیں کہ ہمارے یہاں کس قدر بدعات و خرافات ہیں تو پھر کتنی سنتیں اٹھی ہونگی اور لوگ کیسے سنت کے عامل بن سکیں گے ؟ یہ ہمارے لیے فکر اور تحقیق کا وقت ہے بجائے اسکے کہ ہم وقت کو مخالفت اور مناظرہ بازی میں ضائع کردیں ۔ جس طرح ہمارے علماء نے نمازوں کی ادائیگی میں سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ترک کر کے اپنے خود ساختہ طریقوں کو رائج کر رکھا ہے ۔ اسی طرح بہت سار ی رسومات کو بھی جنم دیا ہے جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ۔ یہ سراسربدعات ہیں جن کی فہرست نے شیطان کی آنت کی طرح اُمّتِ مسلمہ کو گھیر رکھا ہے ۔ جن بدعات کے بارے میں بہت ساری کتابیں لکھی جاچکی