کتاب: تلاش حق کا سفر - صفحہ 69
ہیں ۔اسکا مشاہدہ آپ مساجد میں خود کرسکتے ہیں ، ہمیں تفصیلات بتانے کی ضرورت نہیں ۔حالانکہ نماز سے قبل صف بندی پر خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم بہت زیادہ توجہ فرمایا دیا کرتے تھے چنانچہ حضرت انس صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اپنی صفوں کو سیدھا کرو، کیونکہ صفوں کی درستگی نماز کی تکمیل کا حصہ ہے ۔‘‘ (بخاری و مسلم) دوسری حدیث جو کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے ، اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے : ’’ اپنی صفیں سیدھی رکھا کرو، میں تمہیں اپنی پشت سے دیکھتا ہوں۔‘‘ چنانچہ ہم میں سے ہر شخص اپنا کندھا ساتھ والے نمازی کے ساتھ اور قدم اسکے قدم سے ملا کر کھڑا ہوتا ۔‘‘ (بخاری ) وضاحت: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پشت سے دیکھنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک معجزہ ہے ۔ 9۔ سینے پر ہاتھ باندھنے کا مسئلہ: صحیح روایت میں ہے کہ حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینے پر دایاں ہاتھ بائیں کے اوپر رکھا ۔(ابن خزیمہ) اب اس اور اس جیسی دوسری احادیث کی روشنی میں ناف پر یا ناف سے نیچے ہاتھ باندھنے کا جواز کیسے بنتا ہے ؟ فیصلہ آپکے ہاتھ میں ہے ۔ جبکہ حنفی مذہب کی معتبر فقہی کتاب میں بھی لکھا ہے کہ ہاتھوں کو سینے پر رکھنا چاہیئے ۔ (عین الہدایہ ، صفحہ ۳۵۰) 10۔ احناف امام کے پیچھے ( مقتدی کیلیے ) سورۃ فاتحہ پڑھنے کے قائل نہیں : امام کے پیچھے مقتدی کے سورۃ فاتحہ پڑھنے کے بھی یہ لوگ قائل نہیں ہیں بلکہ منع کرتے ہیں ، اور اس کی دلیل قرآن کی آیت کو بناتے ہیں کہ جب قرآن پڑھا جائے تو خاموشی سے سنو۔۔۔۔۔۔۔جبکہ یہ آیتِ کریمہ جن پر نازل ہوئی (یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر) خود انہوں نے اپنی زبانِ