کتاب: تلاش حق کا سفر - صفحہ 55
کہ آپ کون ہوتے ہو حق ِمہر فکس (مقرر ) کرنے والے جبکہ اﷲ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زیادہ سے زیادہ اور کم سے کم دیا ہے ، اس پرحضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بجائے سیخ پا ہونے کے اور غصہ میں اسکو بے عزت کرنے کے فوراً اپنی غلطی تسلیم کرلی اور کہا کہ اللہکی قسم! ہر شخص عمر سے زیادہ جانتا ہے ۔ یہ تاریخی الفاظ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی عظمت کو ثابت کرتے ہیں ۔ اس سے ان کا مقام بڑھ گیا اور دین کے معاملہ میں عاجزی و انکساری واضح ہوگئی لیکن آج کے مولوی حضرات غصہ میں الٹا سوال کرنے والے کو ہی جھڑک دیتے ہیں ۔کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس عورت کو کوئی سزا دی تھی؟ کیا بعد میں کسی بھی موقع پر اسے ذلیل کرنے کا پروگرام بنایا؟ کیا اپنے دل میں اسکے بارے میں کوئی بغض و کینہ رکھا؟ اگرنہیں تو ہمارے تبلیغی مولوی ایسا کیوں کرتے ہیں ؟ اور دین میں تحقیق کرنے والے کو رُسوا کرنے کا پروگرام کیوں بناتے ہیں ؟ حالانکہ حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کسی نے احرام کے محرمات کے بارے میں سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنا فتویٰ حدیث کی روشنی میں دے دیا۔ پھر سائل نے کہا کہ حضرت اس بارے میں آپکے والد (حضرت عمر رضی اللہ عنہ ) تو ایسے اور ایسے کہتے ہیں ۔ آپ نے جواب دیا کہ میرے والد اس معاملہ میں حجت ہرگز نہیں بن سکتے ۔ کیونکہ میرے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح حدیث موجود ہے ۔اب ذرا سوچیئے کہ کیا حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے باپ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بے عزتی کردی؟ یا پھر اس جواب سے دین کے معاملہ یعنی شریعت میں کوئی دراڑ پڑگئی؟ یا باپ بیٹے دونوں میں سے کسی کا مقام گھٹ گیا، ہرگز نہیں بلکہ دین کو تقویت ملی اور صحیح مسئلہ لوگوں میں عام ہوگیا۔ اسی طرح اور تو اور خود حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی دین کے معاملے میں کوئی بات ہوتی تو بغیر تحقیق کے نہ ہی خود عمل کرتے اور نہ ہی اسے عام ہونے دیتے جیسے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے کہ وہ آپ کے گھر آئے اور دروازے پر تین دفع دستک دی جب کوئی جواب نہ ملا تو واپس پلٹ گئے ۔ اتفاقاً آپ بھی اسی وقت گھر سے نکلے اسے دیکھا معاملہ معلوم ہونے پر استفسارکیا کہ تین دفعہ دستک دینے والی بات کیوںکرہو؟ تو صحابی رضی اللہ عنہ نے جوب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم