کتاب: تلاش حق کا سفر - صفحہ 45
اہم بات کہ اﷲ کے دین کے لیے کتنا وقت دیتے تھے ؟ (یا پھر تبلیغی زبان میں کتنے وقت کیلئے نکلتے تھے ؟) اور واقعہ بیان کرتے ہوئے یہ بالخصوص کہا گیا ہے کہ یہ عمل وہ ہمیشہ کیا کرتے تھے لہٰذا یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ ایک دو دن ایسا کرتے باقی دنوں میں دوسرے کام کرتے ۔ اب فیصلہ آپ کے ہاتھ چھوڑ دیتے ہیں ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی۔ فَاعْتَبِرُوْایَا اُو لِی الْاَبْصَارِ غرض جب بے پرکی اڑاکر اپنے بزرگوں کے بارے میں اسطرح کے فضائل مشہور کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں تو پھر عقل سے بھی عاری ہو کر فضائل گھڑے جاتے ہیں لیکن آپ نے سنا ہوگا کہ صرف نقل کے لیے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے ۔ پھر بات بنانے کے لیے تو تیز عقل درکار ہے جو کہ لگتا ہے ان کے پاس کم ہی ہے ورنہ ایسی باتیں نہ کرتے بلکہ یہ تو اپنے بزرگوں کا احترام کھونے والی بات بن جاتی ہے ۔ اور ان بزرگوں کے بارے میں عوام کیا رائے قائم کریں گے ؟ بلکہ اس سے بزرگوں کی عزت اور مقام و مرتبہ گھٹ جاتا ہے ۔ لہٰذا ہم ایسے لوگوں کو دعوت دیتے ہوئے ان کے حق میں دعا ء کرتے ہیں کہ ایسے سلسلہ کو چھوڑ کر صرف قرآن و سنت کو اپنالیں جس کا ہرا یک واقعہ حقیقت اور سچائی پر مبنی ہے اور آج تک کسی نے بھی قرآن و حدیث کے واقعات کو غلط ثابت نہیں کیا اور نہ ہی ان شآء اﷲ قیامت تک کوئی کرسکے گا کیونکہ ان میں جھوٹ ہے ہی نہیں ۔ تو آئیے کیوں نہ اس راستے اور دعوت کو اپنا یا جائے جو کہ بے عیب اور با عزت و پُروَقار ہے ۔ جس سے اﷲ بھی خوش اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی خوش۔ دنیا سہل اور آخرت کے باغوں میں سے باغ بن جائے ۔ ارشادِ ربانی ہے : { وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُکِِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّہٖ فَاَعْرَضَ عَنْھَا وَنَسِیَ مَاقَدَّمَتْ یَدٰہُ } (سورۃ الکہف:۵۷) ’’اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جسے اسکے رب کی آیات سے نصیحت کی