کتاب: تلاش حق کا سفر - صفحہ 158
کی شرط قرار دینا تاکہ اپنے مخصوص مقاصد کو جلد از جلد پایۂ تکمیل تک پہنچایا جا سکے پس علم قرآن و حدیث سے بیزاری اس جماعت کی بد نصیبی ہے ۔ (۳) اسلام کی تبلیغ کے لیے صحیح عقائدکا علم اور ان پر ایمان ہونا ایک شرط کی حیثیت رکھتا ہے مگر تبلیغی جماعت کی یہ بد نصیبی ہے کہ اس جماعت میں شامل لاکھوں افراد میں سے شاید ایک فی صد بھی ایسے لوگ نہیں ہیں جن کو صحیح اسلامی عقائد کا علم اور ان پر ایمان ہو کیونکہ عام طور پر جو جہلاء مبلغین ہیں وہ تو جانتے ہی نہیں عقائد کس چڑیا کا نام ہے اور جو اکابرین ہیں وہ عقائد کو جانتے ہیں مگر تقلید کے پھندے میں پھنسے ہونے کی وجہ سے صحیح عقائد پر ایمان لانے کی توفیق سے محروم ہیں پس تبلیغ دین کے لیے صحیح اسلامی عقائد کا علم اور ایمان ہونا بھی بنیادی شرط کے درجہ میں ہے ۔ (۴) تبلیغ کا مرکز اور محور عقائد اور احکامات ہونے چاہئیں کیونکہ ان ہی پر دین اسلام کی بنیاد ہے اور یہی انبیاء کرام علیہم السلام کی سنت بھی ہے لیکن تبلیغی جماعت نے اپنی تبلیغ کا محور فضائل کو بنایا ہواہے جسکی وجہ سے لوگ تبلیغی جماعت کی طرف باآسانی مائل ہوجاتے ہیں لیکن اسکانقصا ن یہ ہوتا ہے کہ جو لوگ تبلیغی جماعت میں کسی غلط عقیدے کے ساتھ داخل ہوتے ہیں وہ مرتے دم تک اپنے اسی غلط عقیدہ پر قائم رہتے ہیں ایسی صورت میں کیا یہ ممکن ہے کہ اس شخص کی نجات محض روزہ نماز اور تبلیغ کی وجہ سے ہوجائے پس تبلیغ ِدین در حقیقت عقائد کی تبلیغ کا نام ہے اور جو لوگ بھی عقائد کی تبلیغ کو چھوڑ کر کسی دوسری چیز کی تبلیغ کرتے ہیں اسے اس چیز کی تبلیغ کہا جائے گا اسلام کی تبلیغ نہیں ۔ میں امید کرتا ہوں کے آپ لوگ اس مضمون کو غور سے پڑھیں گے اور اس کی سچائی اور حقیقت کو تعصب کی نظر سے دیکھے بغیر ا ن باتوں سے قرآن و حدیث کی روشنی میں اپنے اعمال کو درست کرنے کی کوشش کرینگے ۔ اس ہدایت کے لیے اﷲ سے دعا کرتے ہوئے اس