کتاب: تلاش حق کا سفر - صفحہ 153
جماعتِ تبلیغ اورکابرینِ دیوبند کوہمارا مخلصانہ مشورہ (۱) آپ نے دعوت کا جوطریقہ اپنایا ہے اس کو تبدیل کریں۔ (۲) مبلغین، قرآن و حدیث کا علم رکھنے والے ہوں۔ (۳) جو لوگ دین سیکھنے آئیں انکو قرآن و حدیث کی تعلیم دی جائے ۔ (۴) فضائل ِاعمال کی تعلیم بند کردی جائے ۔ اگر یہ نہیں چاہتے تو کم از کم فضائلِ اعمال سے شرک و بدعت پر مبنی واقعات کو خارج کیا جائے ، اور لوگوں میں تحقیق کا جذبہ پیدا کیا جائے ۔ (۵) عربوں کے لیے ریاض الصالحین اور غیر عربوں کے لیے فضائلِ اعمال، یہ تفریق ختم کردی جائے ۔ ہر جگہ اور ہر ایک کے لیے صرف ریاض الصالحین ہی پڑھائی جائے ۔ (۶) تمام مراکز میں دینی سوالات کے جوابات دینے کے لیے محقق علمائے کرام کو مقرر کیا جائے ۔ کیونکہ یہ ایک سنّت ہے ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات کیا کرتے تھے ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کے زمانے میں بھی یہ سلسلہ چلتا تھا اور آج بھی دنیا کے جس حصہ میں نماز کے بعد اگر مقتدی سوال کرتا ہے تو امام اس کا جواب قرآن و حدیث کی روشنی میں دیتا ہے ۔ (۷) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے وارث اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر ہمہ وقت عمل پیرا ہونے ،سنتوں کو لوگوں میں عام کرنے والی جماعت اصحاب الحدیث(اہل حدیث)کی جماعت ہے ۔اس جماعت پر بے جا حملہ کرنے اور انہیں اذیتیں دینے سے بعض آجائیں۔ عوام الناس کی خدمت میں چند مفید مشورے (۱) اسلام کی بنیاد عقیدہ ٔ توحید پر قائم ہے ۔ اس پر جمے رہیں اور شرکیہ اعمال سے پوری طرح بچنے کی کوشش کریں۔ (۲) نماز کی پوری طرح سے پابندی کریں۔ ہر پانچ وقت کی نماز میں تکبیر اولیٰ سے شامل