کتاب: تلاش حق کا سفر - صفحہ 129
2تقلید ِشخصی: کسی شخص کی بلا دلیل بات اور فتویٰ کو اپنے لیے حجت سمجھنا تقلید شخصی کہلاتا ہے ۔ اس قسم کی تقلید میں کسی خاص شخصیت کا التزام کیا جاتا ہے جیسا کہ حنفی کے لیے امام ابو حنیفہ ؒ کے علاوہ کسی کی تقلید جائز نہیں ہوتی۔خواہ وہ قرآن و حدیث کے احکامات کو اپنے امام کے قول کے تابع کردے ۔ اسی کا نام تقلیدِشخصی ہے ۔ قرآن و حدیث کو اپنے امام کے فتویٰ کے موافق لانے کے لیے ہر قسم کی تاویلات و تحریفات کا دروازہ کھل گیا نیز اماموں میں تقسیم ہوکر اُمت کی وحدت بھی پارہ پارہ ہوگئی ۔ 3توحید ِمطلب: یہ تقلید کی بدترین قسم ہے اوراسے انکار ِرسالت کا چور دروازہ کہا جاسکتا ہے ۔ جس میں مقلد ہر قسم کی شرعی پابندی سے ہی آزاد ہوگیا اب اسکے لیے اُسکے پیر کا حکم ہی دین و شریعت بن گیا ۔ پیر کا قول ہی دراصل شریعت ہے اور مرید کو یہ جاننے یا سوچنے کی بھی اجازت نہیں کہ اسکے پیر کا قول دین و شریعت کے خلاف تو نہیں ہے ۔ اس توحید مطلب کی تعریف مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا اشرف تھانوی اور مولانا زکریا صاحبان نے بہت ہی نرالے انداز میں کی ہے ۔ پڑھ کر دل کانپنے لگتا ہے ۔ اب کوئی بھی شخص اگر اس قسم کا عقیدہ رکھے گا تو لازمی بات ہے کہ اسکے لیے اپنے پیر کے منہ سے نکلی ہوئی ہربات اﷲتعالیٰ کے فرمان کے درجہ میں ہوگی نیز توحید مطلب کا ایک اہم رکن وحدت الوجود بھی ہے ۔ پس اِن تمام خباثتوں کے باعث توحیدِ مطلب ایک کفرو الحاد اور انکار ِرسالت پر مبنی تقلید ہے جس کی دین اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ۔