کتاب: تلاش حق کا سفر - صفحہ 107
اتباعِ سنّت دین ِ اسلام کا اولین اور بنیادی رکن عقیدۂ توحیداور اتباع سنت ہے لیکن آج کا مسلمان اتباع ِ سنّت کو بالائے طاق رکھ کر تقلید کے نعرے بلند کرتا پھررہاہے ۔یہ اَن پڑھ اور جاہل مسلمان ہی نہیں بلکہ چوٹی کے جامعات اور مدارس سے سند حاصل کرنے کے بعد جب ایک عالم کو اپنا مستقبل تاریک نظر آنے لگا تو وہ تقلید کے نعرے لگاتے ہوئے اتباعِ سنّت کا گلا گھونٹ کر سمجھ رہا ہے کہ ایک روشن مستقبل کی ڈگر پر چل پڑاہے جبکہ دین کے معاملہ میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی اطاعت کرنا فرض ہے لہٰذا آئیے میں آپ کو اللہ پاک کا فیصلہ سنا تا ہوں اور کسی بھی تقلیدی مائی کے لال میں یہ ہمت نہیں کہ اِن قرآنی فیصلوں کو جھٹلا سکھے ۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے : { مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ} (سورۃ نسآء:۸۰) ’’جس نے رسول کی اطاعت کی اُس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔‘‘ { وَمَا یَنْطِقُّ عَنِ الْھَوٰی علیہم السلام اِنْ ھُوَا اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی علیہم السلام } (سورۃ النجم:۳) ’’وہ (بنی) اپنی مرضی سے کوئی بات نہیں کرتے بلکہ و حی جو اُن پر نازل کی جاتی ہے اُس کے مطابق بات کرتے ہیں ۔‘‘ { وَمَا اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِلنَّاسِ بَشِیْرًاوَّنَذِیْراً} (سورۂ الانعام:۲۸) ’’(اے نبی!)ہم نے آپ کو تمام بنی نوعِ انسان کے لیے بشیر و نذیر بناکر بھیجا ہے ۔‘‘