کتاب: تلاش حق کا سفر - صفحہ 104
تعالیٰ تمام کافروں اور سب منافقوں کو جہنم میں جمع کرنے والا ہے ۔‘‘ لہٰذا اب بھی وقت ہے کہ بذریعہ توبہ ا پنے آپ کو منافقین کی صفوں میں شامل ہونے سے بچالیا جائے اور یہاں یہ کہہ کر جان نہیں چھڑائی جاسکتی کہ ہم نے تو حدیث کی بات کی ہے ۔قرآنی آیات سے انکار اور تمسخر تو نہیں کیا تو اِ س کی تفصیل میں جاکر اِس تحریر کو طوالت میں ڈالنے کی بجائے ہم صرف حوالہ جات دیدیتے ہیں آپ خود اِن آیات کا ترجمہ پڑھ سکتے ہیں ۔ (آل عمران:۳۱۔۳۲،النسآء:۶۴۔۶۵،الاحزاب:۷۰۔۷۱،الحدید:۲۸،الصف:۱۰۔۱۱) اللہ ہدایت دے اور سوچنے سمجھنے کی توفیق بخشے ، آمین۔ سوال 4: فرض نماز کے بعد اجتماعی دعاء کا مسئلہ: میں نے اُن سے سوال کیا کہ کیا فرض نماز کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے اذکار ضروری ہیں یا اجتماعی دعاء؟اُنھوں نے جواب دیا کہ ہماری مسجد اور ہمارے مدرسہ میں فرض نماز کے بعد اجتماعی دعاء نہیں ہوتی اور یہ بات سچ بھی ہے لیکن سوال صرف اُن کی ایک مسجد یا ایک مدرسہ کا نہیں ۔سوال اُن ساری مساجد کا ہے جو اِن کے قبضے میں ہیں جہاں قرآن کو طاق میں رکھ کر تبلیغی نصاب کو ہرایک مسجد کے منبر کی زینت بنا رکھا ہے ۔وہاں پر اجتماعی دعاء پر اتنا زور کیوں؟یہاں تک کہ یہ دعاء نماز کا ایک حصّہ بن چکی ہے ۔اِس بدعت کو ختم کرنے میں یہ پہل کیوں نہیں کرتے ؟اِس کا اِن کے پاس کوئی جواب نہیں ۔ سوال 5: نمازِ جمعہ کے تین خطبے : اس بارے میں اُن سے سوال کیا گیا تو کہنے لگے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے چلا آرہا ہے ۔اِس بات میں کتنی سچائی ہے آپ خود سوچ سکتے ہیں ۔صرف چند برسوں پہلے یہ بدعت ہماری آنکھوں کے سامنے منظرِعام پر آئی جو اِن کی مخصوص مسجدوں میں رائج ہے اور چند وہ مسجدیں جو انہی کے قبضے میں ہیں وہاں پر آج بھی دو ہی خطبے ہورہے ہیں ۔جیسے دہلی کی جامع