کتاب: تلاش حق کا سفر - صفحہ 102
نہیں مانتے ایسی صورت میں کوئی اہلِ حدیث عالم ہی کیوں نہ ہو اگر کوئی بات ایسی کہہ دیں یا لکھ دیں جو قرآن اور حدیث سے ٹکرارہی ہوتو وہ سب ہمارے لیے حجت نہیں بن سکتی ہے ۔یہ ساری باتیں اُنکی دماغی کھچڑی ہے جسے بیان کرتے اور خوش ہوتے رہتے ہیں ۔ سوال 3: بدعت کی تعریف: دورانِ گفتگو جب میں نے بدعت کی تعریف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اِس حدیث کی روشنی میں کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : (( فَاِنَّ خَیْرَ الْحَدِیْثِ کِتَابُ اللّٰہِ ، وَ خَیْرَ الْھَدْيِ ھَدْيُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، و شَّرَّ الْاُمُوْرِ مُحْدَثَاتُھَا، و کُلَّ مُحْدثَۃٍ بِدْعَۃٌ، وَکُلَّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ، وَ کُلَّ ضَلاَلَۃٍ فِي النَّارِ)) (صحیح بخاری ومسلم) ’’بہترین حدیث کلامِ الٰہی ہے اور بہترین طریقہ سنتِ رسول ہے ۔ اور بدترین امور (دین میں ) نئی ایجادات ہیں اور ہر نئی ایجاد بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں (لیجانے والی) ہے ۔‘‘ یعنی ہر وہ عمل بدعت کہلائے گا جو ثواب اور نیکی سمجھ کر کیا جائے ،لیکن شریعت میں اس کی کوئی بنیاد یا ثبوت نہ ہو،یعنی نہ تو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود وہ عمل کیا ہو نہ کسی کو اس کا حکم دیا ہو اور نہ ہی کسی کو اس کی اجازت دی ہو۔ایسا عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں مردودوناقابلِ قبول ہے ۔ اِس حدیث پر اور اس کی تعریف پر بھی سارے ہنس رہے تھے اور مذاق اڑارہے تھے ۔یہ لوگ جمعہ کے خطبے میں رسمی طور پر اس حدیث کی تلاوت تو کردیتے ہیں لیکن اس کا مفہوم کسی کو نہیں بتاتے اُس دن سامنے بیٹھے ہوئے زیادہ تر اَن پڑھ لوگ تھے ،اُنکو اپنے برتاؤ سے یہ باور کرانا چاہتے تھے کہ جو حدیث میں نے پڑھی اور بدعت کی تعریف کی وہ غلط ہے لیکن اللہ پاک تو جانتا ہے ۔ا ن شآء اللہ یہ سارے قیامت کے دن اپنے برتاؤ اور ہنسی مذ اق کا ضرور