کتاب: طلاق کے مسائل - صفحہ 88
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کرنے والوں کی اولاد کے بارے میں یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ ’’ماں اولاد کی اور اولاد ماں کی وارث ہوگی اگر کوئی عورت کو زانیہ کہے گا تو اسے اسی کوڑے مارے جائیں گے اور جو اولاد کو ولد الزنا (حرامی) کہے گا ، اسے بھی اسی کوڑے مارے جائیں گے۔‘‘اسے احمد نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ نمبر122:مرد اور عورت کے درمیان جب تک لعان نہ ہو تب تک بچہ باپ کی طرف ہی منسوب ہوگا۔ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رضی اللّٰه عنہ اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللّٰه علیہ وسلم قَالَ (( اَلْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاہِرِ الْحَجَرُ )) رَوَاہُ النِّسَائِیّ[1] (صحیح) حضرت ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’بچہ بیوی والے کا ہے اور زانی کے لئے پتھر ہیں۔‘‘ اسے نسائی نے روایت کیا ہے۔ [1] کتاب الطلاق ، باب یلحق الولد بالملاعنۃ [2] صحیح سنن ابی داؤد ، للالبانی ، الجزء الثانی ، رقم الحدیث 1969 [3] نیل الاوطار ، کتاب اللعان ، باب ما جاء فی قذف الملاعنہ