کتاب: طلاق کے مسائل - صفحہ 53
کے حوالے کرنے والی خاتون بہترین رفیقہ حیات ہے۔ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رضی اللّٰه عنہ قَالَ : قِیْلَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم ! اَیُّ النِّسَآئِ خَیْرٌ ؟ قَالَ ((اَلَّتِیْ تَسُرُّہٗ اِذَا نَظَرَ وَ تُطِیْعُہٗ اِذَا اَمَرَ وَ لاَ تُخَالِفُہٗ فِیْ نَفْسِہَا وَ مَالِہَا بِمَا یَکْرَہُ )) رَوَاہُ النَّسَائِیُّ[1] (حسن) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں عرض کیا گیا ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !بہترین عورت کون سی ہے؟‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’وہ عورت کہ جب اس کا شوہر اس کی طرف دیکھے تواسے خوش کر دے جب کسی بات کا حکم دے تو اس کی اطاعت کرے نیز عورت کی جان اور مال کے معاملے میں شوہر جس چیز کو ناپسند کرتا ہو اس میں اس کی مخالفت نہ کرے۔‘‘اسے نسائی نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ نمبر50:ہر معاملے میں شوہر کی آخرت کا خیال رکھنے والی ،ایمان والی ہونا مثالی بیوی کی صفت ہے۔ عَنْ ثَوْبَانَ رضی اللّٰه عنہ قَالَ : لَمَّا نَزَلَ فِی الْفِضَّۃِ وَالذَّہَبِ مَا نَزَلَ ، قَالُوْا : فَأَیُّ الْمَالِ نَتَّخِذُ ؟ قَالَ عُمَرَ : فَأَنَا اَعْلَمُ لَکُمْ ذٰلِکَ ، فَأَوْضَعَ عَلٰی بَعِیْرِہٖ فَأَدْرَکَ النَّبِیَّ صلی اللّٰه علیہ وسلم وَ اَنَا فِیْ اَثَرِہٖ فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم اَیُّ الْمَالِ نَتَّخِذُ ؟ فَقَالَ ((لِیَتَّخِذْ اَحَدُکُمْ قَلْبًا شَاکِرًا ، وَ لِسَانًا ذَاکِرًا ، وَ زَوْجَۃً مُؤْمِنَۃً ، تُعِیْنُ اَحَدَکُمْ عَلٰی اَمْرِ الْآخِرَۃِ ۔ رَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ[2] (صحیح) حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب سونے چاندی کے بارے میں آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم نے آپس میں کہا ’’پھر ہم کون سا مال جمع کریں؟‘‘حضرت عمررضی اللہ عنہ نے کہا ’’میں تمہارے لئے ابھی اس سوال کا جواب دریافت کرتا ہوں۔‘‘چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے اونٹ پر سوار ہوئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔میں (یعنی حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ )حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے پیچھے تھا ۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہم کون سا مال جمع کریں؟‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’تم میں سے ہر ایک کوشکر گزار دل ،ذکر کرنے والی زبان ،مومنہ بیوی ،جو آخرت کے بارے میں تمہاری مددگار ثابت ہو ، حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔‘‘اسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ [1] اداب الزفاف للالبانی رقم الصفحہ 89 [2] صحیح جامع الصغیر و زیادۃ ، للالبانی ، الجزء الثالث ، رقم الحدیث 673