کتاب: طلاق کے مسائل - صفحہ 10
کا مرتکب ہوتا ہے (حاکم )اور بلاوجہ طلاق لینے والی عورت پرجنت کی خوشبو حرام ہے (ترمذی)اس تنبیہہ کے باوجود اگر فریقین ایک دوسرے سے الگ ہونے کافیصلہ کر ہی لیں تو پھر شریعت نے الگ ہونے کا طریقہ ایسا حکیمانہ وضع کیا ہے کہ الگ ہونے کا طریقہ بذات خود فریقین کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑنے اور ملانے کی آخری کوشش نظر آتی ہے طلاق کے لئے سب سے پہلا حکم یہ ہے کہ دوران حیض عورت کو طلاق نہ دی جائے بلکہ حالت طہر میں دی جائے۔ حیض ایک بیماری کی کیفیت ہے جس میں قدرتی طور پر مرد اور عورت میں کچھ دوری پیدا ہوجاتی ہے جبکہ حالت طہر میں قدرتی طور پر مرد اور عورت ایک دوسرے کے قریب ہو جاتے ہیں۔اسلام تمام قدرتی عوامل کو طلاق کے حق میں نہیں بلکہ صلح کے حق میں استعمال کرنا چاہتا ہے لہٰذا دوران حیض طلاق دینے پر پابندی لگا دی گئی ۔ثانیًا طلاق کے بعد تین ماہ کی طویل مدت مقرر کر کے شوہر کو اس بات کا پورا پورا موقع فراہم کیا گیا ہے کہ اگر اس نے عجلت میں یا غصہ میں یا کسی عارضی واقعہ سے متاثر ہو کر بیوی کو طلاق دی ہے تو ان تین مہینوں میں اپنی غلطی کی تلافی کرنے کے لئے کسی وقت بھی رجوع کر سکتا ہے ۔ثالثًا دوران عدت بیوی کو اپنے ساتھ گھر میں رکھنے اور اسے حسب سابق نان و نفقہ ادا کرنے کی پابندی لگا دی گئی تاکہ اگر فریقین میں صلح کی کچھ بھی گنجائش ہو تو فریقین کے لئے علیحدگی کی بجائے صلح کا راستہ ہموار کیا جائے ۔یہ سارے احکام اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ اسلام آخری حد تک خاندانی نظام کو تحفظ مہیا کرنا چاہتا ہے اور تفریق یا علیحدگی کی اجازت صرف اسی صورت میں دیتا ہے جب فریقین کا حدود اللہ پر قائم رہنا واقعی ناممکن ہوجائے۔ [1] [1] چلتے چلتے ایک نظر مغرب کے خاندانی نظام پر بھی ڈالتے چلئے جس کی مادی ترقی اور دنیاوی چکا چوند نے ہماری آنکھوں کو خیرہ کررکھا ہے اور ہماری سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں اس حد تک مائوف ہوتی جارہی ہیں کہ ہم ایک ایک کرکے اپنی تمام اسلامی اقدار سے بے نیاز ہوتے جارہے ہیں جاپانی نژاد امریکی دانشور فرانسس فوکو یاما نے اپنی کتاب ’’ایک ضابطے کا خاتمہ ‘‘میں اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ مغرب میں خاندانی نظام بالکل تباہ ہوچکا ہے نکاح کے بغر زندگی بسر کرنے کے رجحان نے سماجی سطح پر احساس ذمہ داری کو بالکل ختم کردیا ہے مغربی معاشرے نے عورتوں کو مردوں کے برابر روزگار کی مارکیٹ میں لا کر اور شادی شدہ خواتین کے مقابلے میں سنگل مائوں (نکاح کے بغیر باپ بننے والا مرد سنگل فادر اور نکاح کے بغیر ماں بننے والی عورت سنگل مدر کہلاتی ہے )کو زیادہ سہولتیں دے کر شادی کی افادیت کا احساس ہی ختم کردیا ہے ۔( ہفت روزہ تکبیر کراچی 30اکتوبر1997 )امریکی ہفت روزہ نیوزویک کی رپورٹ کے مطابق یورپ میں سنگل مائوں کا تناسب بڑھ رہا ہے شادی کے بغیر ماں بننے والیوں میں اکثر نوعمر لڑکیاں ہوتی ہیں جنہیں یہ معلوم ہی نہیں کہ بغیر کسی پلاننگ (یعنی نکاح )کے ماں بن جانا کتنی بڑی غلطی ہے ۔ہفت روزہ نیوز ویک کے مطابق سویڈن میں پیدا ہونے والے آدھے بچوں کا تعلق غیر شادی شدہ والدین سے ہوتا ہے فرانس اور برطانیہ میں ہر تیسرا بچہ اپنے والدین کی ناجائز اولاد ہوتا ہے یہی حال آئر لینڈ کاہے ۔ڈنمارک میں سنگل فادرز اور سنگل مدرز کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے وہاں کا روایتی خاندانی نظام آہستہ آہستہ ختم ہورہاہے اور یہاں کی نئی نسل خاندانی نظام کی ٹوٹ پھوٹ کے سبب جرائم ،منشیات اور پھر تشدد کی طرف مائل ہورہی ہے اس طرح ڈنمارک بھی امریکہ بنتا جارہاہے ۔( ہفت روزہ تکبیر ،4 ستمبر1997ء)چرچ آف انگلینڈ کے چوالیس راہنمائوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اب وہ اس بات پر بالکل یقین نہیں رکھتے کہ اکٹھے رہنے والے غیر شادی شدہ جوڑے کوئی گناہ کرتے ہیں شادی پر زیادہ زور دینا اب پرانی بات ہو چکی ہے اگر لوگ نکاح کے بغیر اکٹھے رہنے پر مصر ہیں تو پھر چرچ کو انہیں روکنا نہیں چاہئے ۔مانچسٹر کے بشپ کرسٹوفرشیفلڈ کا کہنا ہے کہ بن بیاہے جوڑوں پر گناہ کی زندگی گزارنے کا لیبل لگانے سے اب کوئی فائدہ نہیں ۔نامہ نگار کے مطابق مغربی معاشروں میں عورتوں کو جنسی آزادی کے نام پر کھلی چھٹی دی گئی انہیں فراوانی اور آسانی کے ساتھ مانع حمل ادویات ریاست کی طرف سے مفت فراہم کی گئیں جس کے نتیجے میں شادی کا ادارہ (خاندان )سب سے زیادہ متاثر ہوا ہر گزرنے والے سال میں طلاق یافتہ افراد کی تعداد بڑھتی جارہی ہے ۔نکاح کے بغیر بن بیاہے اکٹھے رہنے والے جوڑوں نے ’’خاندان ‘‘کی جگہ لے لی ہے نتیجہ یہ ہے کہ مستحکم خاندانوں کی بجائے ٹوٹے ہوئے گھروں سے نکلنے والے بچوں کی ایک فوج محلوں اور گلیوں میں چھوٹے بڑے جرائم کرتی پھرتی ہے ۔( ہفت روزہ تکبیر ،30 اکتوبر1997ء)