کتاب: تخریج وتحقیق کے اصول وضوابط - صفحہ 98
مخالفت کرتا ہے، یا اس سے بیان کرتے ہوئے راویان مضطرب ہیں تو ایسی سند دوسری سند سے مل کر تقویت حاصل نہیں کر سکتی۔ اسے تطبیقی انداز میں یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ امام حاکم نے سفیان بن حسین عن الزہری کی ایک مرفوع حدیث بیان کی ہے، پھر اس کا مرسل شاہد (ابن المبارک عن الزہری) ذکر کیا، اس مرفوع حدیث میں جس ضعف کا شبہ تھا، اسے مرسل حدیث سے دور کرنے کی کوشش کی۔ (المستدرک1/ 392)مگر حافظ ابن حجر اس مرفوع حدیث کو اس مرسل روایت سے تقویت دینے کے قائل نہیں کیونکہ سفیان بن حسین، امام زہری سے بیان کرنے میں متکلم فیہ ہے، بنابریں اس نے یہ روایت امام ابن المبارک کے برعکس مرفوع بیان کی ہے، حافظ ابن حجر فرماتے ہیں:’’بل ھو علتہ۔‘‘[1] کہ ابن المبارک کا اس حدیث کو زہری سے مرسل بیان کرنا سفیان کی غلطی کی دلیل ہے، لہٰذا یہ روایت مرسل ہی راجح ہے اور وہ مرفوع کو تقویت نہیں دیتی، کیونکہ اس کا مرفوع بیان کرنا غلط ہے۔ ذرا غور کیجیے ! امام حاکم ایک حدیث کو متأخرین کی اصطلاح کے مطابق حسن لغیرہ قرار دے رہے ہیں، اسی حدیث کو حافظ ابن حجر مرسل ہونے کی بنا پر ضعیف قرار دے رہے ہیں، کیونکہ حافظ صاحب کے نزدیک مرفوع بیان کرنا غلطی ہے، جس کی وجہ مرسل روایت ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ محدثین کسی حدیث کو حسن لغیرہ قرار دینے کے لیے قرائن کو پیشِ نظر رکھتے ہیں، جیسا کہ حافظ ابن حجر نے بھی تغلیق التعلیق میں ذکر کیا ہے، ضعیف+ ضعیف کو مطلق طور پر حسن لغیرہ قرار دینا محدثین کا منہج نہیں ہے۔ بسا اوقات کوئی محدث کسی حدیث کو تقویت دینے میں وہم کا شکار ہوجاتا ہے جو استثنائی صورت ہے، اس سے حسن لغیرہ کے حجت ہونے میں قطعی طور پر زد نہیں پڑتی، کسی حدیث کے حسن [1] ( تغلیق التعلیق لابن حجر: 3/ 17).