کتاب: تخریج وتحقیق کے اصول وضوابط - صفحہ 94
’’الحسن بمجموع الطرق فی میزان الاحتجاج بین المتقدمین والمتأخرین‘‘ بہت مفید ہے۔ جواب: قارئین سے گزارش ہے کہ اس مسئلے پر راہِ انصاف کو پانے کے لیے مندرجہ ذیل کتب بھی ملاحظہ فرمائیں، جن میں مذکورہ بالا کتاب اوراس مسئلے پر شبہات کا جائزہ لیا گیا ہے: القول الحسن فی کشف شبھات حول الاحتجاج بالحدیث الحسن مع تصویب الأسنۃ لصد عدوان المعترض علی الأئمۃ للشیخ ابن أبی العینین۔ الرد علی کتاب الحسن بمجموع الطرق فی میزان الاحتجاج بین المتقدمین والمتأخرین للشیخ أبی المنذر المنیاوی۔ الحدیث الحسن لذاتہ ولغیرہ للدکتور خالد بن منصور الدریس۔ مناھج المحدثین فی تقویۃ الأحادیث الحسنۃ والضعیفۃ للدکتور المرتضیٰ زین أحمد۔ مقالہ حسن لغیرہ لمحمد خبیب أحمد الاثری[1] چوتھا اشکال: کیا ابن قطان کے نزدیک حسن لغیرہ حجت نہیں؟ حافظ ابن القطان الفاسی نے حسن لغیرہ کے بارے میں صراحت کی ہے کہ ’’لایحتج بہ کلہ بل یعمل بہ فی فضائل الأعمال۔‘‘ اس ساری کے ساتھ حجت نہیں پکڑی جاتی، بلکہ فضائلِ اعمال میں اس پر عمل کیا جاتا ہے۔[2] [1] (مقالات اثریہ جلد ۱). [2] (النکت علی کتاب ابن الصلاح 1/ 402).