کتاب: تخریج وتحقیق کے اصول وضوابط - صفحہ 90
حا فظ محمد محدث گو ندلوی لکھتے ہیں:’’شاذ سے شاذ کو تقویت نہیں پہنچتی۔‘‘ (خیر الکلام ص:۴۱۸)اسکی مثال ’’ اذا قرأ فأنصتوا‘‘ہے۔ محترم حافظ خبیب احمد الاثری لکھتے ہیں:حسن لغیرہ کے بارے میں بعض لوگ انتہائی غیر محتاط رویہ اپناتے ہیں، ان کے نزدیک ضعیف حدیث+ ضعیف حدیث کی مطلق طور پر کوئی حیثیت نہیں، خواہ اس حدیث کے ضعف کا احتمال بھی رفع ہوجائے۔ بزعم خویش حدیث کے بارے میں ان کی معلومات امام ترمذی، حافظ بیہقی، حافظ عراقی، حافظ ابن حجرؒ وغیرہ سے زیادہ ہیں۔ حالانکہ یہ بداہتاً معلوم ہے کہ جس طرح رواۃ کی ثقاہت کے مختلف طبقات ہیں، اسی طرح ان کے ضعف کے بھی مختلف درجات ہیں۔ کسی راوی کو نسیان کا مرض لاحق ہے تو کسی پر دروغ بافی کا الزام ہے، بعض کے بارے میں محدثین کا فیصلہ ہے: ’’ یُعْتَبرْ بِھِمْ، یُکْتَبُ حَدِیْثُھُمْ۔‘‘ جبکہ بعض کے بارے میں’’ لَا یُعْتَبَرُ بِھِمْ، لَا یُکْتَبُ حَدِیْثُھُمْ۔‘‘ہے۔ حسن لغیرہ کا مطلق طور پر انکار کرنے والے جس انداز سے متاخرین محدثین کی کاوشوں کو رائیگاں قرار دینے کی سعی نامشکور کرتے ہیں، اسی طرح متقدمین جہابذۂ فن کے راویان کی طبقہ بندی کی بھی ناقدری کرتے ہیں اور بایں ہمہ وہ فرامین نبویہ کی خدمت میں مصروف ہیں۔ إِنا للّٰه وإِنا إلیہ راجعون۔[1] [1] (مقالات اثریہ از محمد خبیب احمد ).