کتاب: تخریج وتحقیق کے اصول وضوابط - صفحہ 71
حا فظ سیو طی فر ما تے ہیں: ’’فما لہ فیہ ذوق المحدثین ‘‘ ابن جو زی میں محدثین کا ذوق نہیں ہے (احادیث کو پر کھنے اور راویو ں پر جرح و تعدیل کا حکم لگانے میں) [1] مذکو رہ تفصیل سے ثا بت ہو اکہ ابن الجو زی اگر کسی راوی پر حکم لگائیں تو اسے آنکھیں بند کر کے نہیں لینا چا ہیے جب تک مکمل تحقیق نہ کر لی جا ئے، کیو نکہ ابن جوزی راویو ں پر حکم لگانے میں غفلت کا شکار ہو ئے ہیں۔نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ ہمیں اس طرح کے لوگوں کی کتب سے پوری توجہ سے نقل کرنا چاہیے۔ مر ضی کے قوا عد بنا نا درست نہیں ! بعض لو گ اپنے مذہب کی خا طر بعض غلط اور بے بنیا د قواعد کا سہا را لیتے ہیں، حالانکہ انھیں قواعد پر عمل کر نا ہو گا جو محد ثین نے اپنا ئے، اس طر ح اسلا م کو بہت نقصا ن پہنچا کہ مر ضی کے غلط اور شا ذ قو اعد بنا نے کی وجہ سے کتنی ہی ضعیف روا یا ت کو صحیح قرار دیا گیا، اور اس کے بر عکس بھی کتنی ہی صحیح احا دیث کو ضعیف قرار دیا گیا، اس منہج کو اپنا نے میں انتہا ئی خطر نا ک نتائج سا منے آتے ہیں۔ چند باطل قواعد کی تفصیل درج ذیل ہے۔ قا عدہ نمبر:۱ بعض نے کہا، ’’ التد لیس والا رسا ل فی القر ون الثلا ثۃ لا یضر نا ‘‘ قر ون ثلاثۃ میں تد لیس اور ارسال ہمیں مضر نہیں۔[2] تبصرہ: حا لا نکہ تا بعین اور تبع تا بعین کے دور میں بے شما ر راوی تد لیس کر تے تھے، حا لا نکہ یہ اصو ل ہے کہ جو کثیر تد لیس کر نے والا راوی ہے، اس کی عن سے مروی روا یت ضعیف ہے۔اسی [1] (طبقات المغیرین :۱۷بحوالہ جنۃ المرتاب لابی اسحاق الحوینی :ص، ۱۱ ،۱۲). [2] (اعلا ء السنن :۱؍۳۱۳).