کتاب: تخریج وتحقیق کے اصول وضوابط - صفحہ 70
کہتے ہیں۔ فائدہ: ابن الجو زی تخریج و تحقیق میں کافی اوہام کا شکار ہو ئے ہیں، ان کی ضروری تفصیل محدث مصر امام ابو اسحاق الحو ینی حفظہ اللہ نے اپنی کتاب’’ جنۃ المرتاب‘‘ کے مقدمہ (ص:۱۰تا۱۴) میں بیان کی ہے فجزاہ اللّٰه خیرا امام ابن جو زی کے کسی راوی پر حکم لگانے میں اعتماد نہ کیاجائے۔ امام ابن جوزی ا پنی کتاب میں راویوں پر جرح وتعدیل کے حوالے سے ان کے ثقہ یاضعیف ہو نے کا حکم لگاتے ہیں۔لیکن وہ اس فن کے ما ہر نہیں تھے اسی وجہ سے محدثین نے ان پر تنقید شدید کی ہے۔ مثلاًحافظ ذہبی لکھتے ہیں:میں نے حر قانی کے خط سے پڑھا ہے کہ ابن الجوزی اپنی تصانیف میں بہت زیادہ غلطیاں کرنے والے تھے، وہ کتا ب لکھ کر فا رغ ہو تے اور اس کو معتبر نہیں سمجھتے تھے۔[1] حافظ ذہبی لکھتے ہیں: ابان بن یزید العطا ر کو ابن الجوزی نے اپنی کتاب ضعفاء میں ذکر کیا ہے اور اس کی تو ثیق کر نے والوں کے اقو ال ذکر ہی نہیں کیے یہ بات اس کی کتاب کے عیو ب سے ہے کہ وہ جرح لکھ دیتے ہیں اور تو ثیق سے خاموشی اختیار کر جاتے ہیں۔[2] حافظ ذہبی ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ابو حاتم نے طالوت بن عیا د کو ثقہ کہا ہے لیکن ابن جو زی نے بغیر کسی تحقیق کے کہہ دیاکہ ’’ضعفہ علما ء النقل ‘‘اس کو علمائے نقل نے ضعیف کہا ہے۔ میں (ذہبی )کہتا ہوں کہ میں قیا مت تک تلا ش کر تا رہو ں لیکن میں کسی ایسے محدث کو نہیں پاؤں گا جس نے اس کو ضعیف کہا ہو۔[3] [1] (تذکرۃ الحفاظ :۴؍۱۳۴۷). [2] (میزان الاعتدال:۱؍۱۷) . [3] (میزا ن الاعتدال :۲؍۳۳۴).