کتاب: تخریج وتحقیق کے اصول وضوابط - صفحہ 60
رواۃ پر بہت زیادہ محنت کر نی چاہیے اور اقر ب الی الصواب قو ل کو اختیا ر کر نا چاہیے۔ (۳) احادیث تین قسم کی ہیں (۱) وہ احادیث جن کے صحیح ہونے پراتفاق ہے (۲) وہ احادیث جن کے ضعیف ہو نے پراتفاق ہے (۳) وہ احادیث جن کے صحیح یا ضعیف ہو نے میں اختلاف ہے۔ دوران تحقیق مختلف فیہ احادیث پر بہت زیا دہ محنت کر نی چاہیے اور اقر ب الی الصواب کو اختیا ر کر نا چاہیے۔نیز دیکھیے: [1] (۴) اگرکسی حدیث کو ناقد محدث کسی علت کی بناپر معلول قرار دے تو اس علت کو تسلیم کیاجائے گا۔اس طر ح جب وہ کسی حدیث کو صحیح قرار دے تو اسے صحیح تسلیم کیا جائے گا۔اگر کو ئی دوسرا محدث اس سے اختلاف کر ے تو تر جیح کی صو رت نکالی جائے گی۔ طرفین کی تحقیق پر غور وفکر کے بعد ایک کو راجح کہا جائے گا۔[2] (۵) دورانِ تخر یج ہر ہر راوی پر مفصل بحث کرنا فو ائد سے خالی نہیں ہے، لیکن اگر وہ ثقہ ہے تو تو ثیق کے چند اقوال مع حوا لہ جات لکھ دینے کافی ہیں، مثلاًایک راوی ثقہ ہے، اس کی محدثین میں سے دس نے تو ثیق کی ہے تو وہاں صرف تین چار محدثین کے اقوال پر اکتفا کرنا اور ساتھ’’ وغیرہ‘‘ لکھ دیناکافی ہے۔ (۶) اگر کو ئی معتبر محدث کسی حدیث پر حکم لگاتے وقت لکھ دے :’’رجالہ ثقات ‘‘تواس سے حدیث کا صحیح ہو نا لازم نہیں آتا کیو نکہ صحیح حدیث کی پانچ شرائط ہیں تو’’ رجالہ ثقا ت‘‘ وغیرہ کہنے [1] (دلائل النبوۃ للبیھقی ۔ج ۱؍۳۲۔۳۸مجموع الفتاوی لا بن تیمیہ :۱۸؍۴۹). [2] (النکت علی ابن الصلاح لابن حجر :۲؍۷۱۱).