کتاب: تخریج وتحقیق کے اصول وضوابط - صفحہ 42
اصول سند سند کے متعلق اصو ل وضوا بط درج ذیل ہیں: (۱) سند کا مطا لبہ کرنا ضروری ہے۔ جب بھی کو ئی حد یث پیش کر ے تو اس سے سند کا مطا لبہ کرنا ضرو ری ہے۔ سند دین سے ہے امام عبد اللہ بن مبا رک فرما تے ہیں: اسنا د دین سے ہیں اگر اسنا د نہ ہو تیں تو جو شخص جو کچھ چا ہتا، کہتا۔(مقد مہ صحیح مسلم ۳۲) حا فظ ابو نصر عبید اللہ بن سعید بن حاتم السجز ی فر ما تے ہیں: ہر شخص جو سنت کا مدعی ہے، یہ ضرو ری ہے کہ جو وہ کہتا ہے اس کے با رے میں اس سے سند کا مطا لبہ کیا جائے، پھر وہ اگر سند پیش کر دے (اور وہ صحیح ہو ) تو اس کی سچا ئی معلو م ہو جا تی ہے اور اس کی با ت قبو ل ہو جا تی ہے فرق با طلہ کی اکثر بد عا ت و خرا فا ت کا سر چشمہ ضعیف، مو ضو ع اور بے سند روا یا ت ہو تی ہیں جو سا ری کی سا ری صحیح سند کا مطا لبہ کر نے سے ختم ہو جا تی ہیں۔وا لحمد للّٰه۔ (۲)سند کا صحیح ہو نا ضرو ری ہے۔ جب بھی کو ئی سند پیش کرے تو اس وقت تک وہ قبو ل نہ کی جا ئے جب تک وہ صحیح ثا بت نہ ہو، اگر وہ حد یث محد ثین کے اصو ل کے مطا بق صحیح ہے تو اس پر عمل واجب ہے اور اسے ترک کرنا حرا م ہے اور اس سے انکا ر کر نا کفر ہے۔ اما م ابن حزم فرما تے ہیں:جو شخص نبی کر یم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح حدیث معلوم ہو جا نے یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو لا ئے ہیں اس پر محدثین کا اجما ع ہو نے کے بعد اس کا انکا ر کر ے تو وہ کا فر ہے۔[1] [1] (المحلیٰ :۱؍۱۲مسئلہ :۲۰).