کتاب: تخریج وتحقیق کے اصول وضوابط - صفحہ 39
فوائد سے محروم کرنا ہے، شیخ البانی رحمہ اللّٰه کی کتب کا کیا مقام ہے، پوری دنیا جانتی ہے، اب ان سے استفادہ سے کون روک سکتا ہے۔ فرحمہ اللّٰه ۳: اصل کتا ب دیکھنے کے بہت زیادہ فوائدہیں، جن میں اہم درج ذیل ہیں: الف: یقین حاصل ہوتا ہے کہ یہ حدیث واقعتا اسی کتاب میں ہے ورنہ شک ہی رہتا ہے۔ ب: محقق کی غلطی واضح ہو جاتی ہے، مثلا ایک حدیث مسلم کی ہے اور اس نے سنن ابی داود کا حوالہ دیا ہے۔ ج: محقق کی تحقیق میں وہ حدیث سیدنا ابوھریرہ رضی اللّٰه عنہ سے مروی ہے حالانکہ اصل کتب دیکھنے سے معلوم ہوتاہے کہ وہ حدیث سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ ذ: محقق کی تحقیق میں روایت یا راوی ضعیف ہے لیکن اصل کتب کی طرف مراجعت کرنے سے معلوم ہوا کہ وہ تو صحیح حدیث ہے یا راوی ثقہ ہے۔یا مخرج سے راوی کی تعیین میں غلطی ہوئی ہے۔ ر: اصل کتاب دیکھنے سے حدیث پر محدث کا حکم بھی مل جاتا ہے، اس طرح بعض دفعہ اسنادی بحث یا کوئی قیمتی فائدہ خواہ فقہ کے متعلق ہو مل جاتا ہے تبویب وغیرہ سے جوپہلے محقق نے ذکر نہیں کیا ہوتا۔ ش: پہلے محقق کی نظر میں علت حدیث ایک تھی، جب اصل کتاب دیکھی تو علتیں اور بھی مل گئیں۔ ص: پہلے محقق کی نظر حدیث میں موجود ضعف کی طرف نہیں گئی، جو بعد والے پر واضح ہو گئی۔ ط: ایک حدیث کو اصل کتاب سے تلاش کرتے ہوئے بے شمار نئے فوائد پر اطلاع ہوجاتی ہے۔