کتاب: تخریج وتحقیق کے اصول وضوابط - صفحہ 36
ناقل)نے ابوداود کی طرف منسوب کیا ہے، جب کہ وہ بخاری ومسلم یا دونوں میں سے کسی ایک میں موجود ہیں، اس طرح بعض احادیث ایسی بھی ہیں جن کو موصوف نے مسلم کی طرف منسوب کیا ہے، جب کہ وہ بخاری میں بھی ہیں۔اس کے علاوہ موصوف نے بعض مسائل کے لئے ابوداود وغیرہ کے حوالے سے احادیث ذکرکی ہیں، جب کہ ان مسائل کے بارے میں بخاری و مسلم میں بھی احادیث موجود ہیں، یہ کمزوری صرف اور صرف اس کتاب کی نہیں بلکہ ہماری اکثر کتابوں کا یہی المیہ ہے۔‘‘[1] حدیث کا غلط انتساب بڑے بڑے محدثین سے بھی صادر ہوا ہے، مثلا امام حاکم حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث ’’کان آخر وصیۃ‘‘کے بارے میں فرماتے ہیں:’’ وقد اتفقا علی اخراج ھذاالحدیث وعلی اخراج حدیث عائشۃ:آخر کلمۃ تکلم بھاالرفیق الاعلی ‘‘ امام بخاری او ر امام مسلم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کو ذکر کیا ہے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کی حدیث آخر کلمۃ کو بھی بیان کیا ہے۔‘‘[2] اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ہمارے فاضل دوست اور عظیم محقق جن کے متعلق محدث العصر شیخ ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ لکھتے ہیں:’’جناب خبیب صاحب میدانِ تحقیق کے شناور ہیں، ان سے بہت سی امیدیں وابستہ ہیں۔‘‘[3] اور ہمارے فاضل دوست شیخ خبیب احمد حفظہ اللہ کے علمی و تحقیقی مضامین رسائل و جرائد میں شایع ہوتے رہتے ہیں جو عرب و عجم کے محققین سے دادِ تحسین حاصل کر چکے ہیں۔والحمدللہ [1] (القول المقبول ص:۱۶). [2] (المستدرک :ج۳ص۵۷). [3] (تقدیم مقالات اثریہ ص:۴۴).