کتاب: تخریج وتحقیق کے اصول وضوابط - صفحہ 15
سے احادیث کو بیا ن کرتے تھے اور انھیں یاد کرتے تھے، جب لوگوں نے غلط سلط بیان کرنا شروع کر دیا تو ہم بہت احتیاط کرنے لگے۔[1] زمانہ نبوت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم بذات خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنتے تھے یاآپ کو دیکھتے تھے یا صحابی کسی صحابی سے سنتا تھا، لیکن بعد میں جب تابعین کا دور شروع ہوا، اس وقت بعض فتنے بھی رو نما ہوئے۔ بعض دین کے دشمن لوگوں نے روایات خود بنانا شروع کر دیں، پھر فنِ تحقیق کی ضرورت پڑی،اسی کی طرف سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اشارہ فرما رہے ہیں۔ نیز اس فن کی ضروت اس وقت محسوس ہوئی جب محدثین نے بعض کتب حدیث لکھیں تو اس میں مرسل، معلق، معضل اور ضعیف روایا ت بھی درج کیں، مثلاًموطاامام مالک، مسند شافعی،مسند احمد، سنن ابی داود، وغیرہ تو اس بنا پر اہلِ علم نے فنِ تخریج وتحقیق کی بنیادیں ڈالیں، مثلاًحافظ ابن عبدالبر نے ’’ التمھید لما فی الموطا من المعانی و الأسانید ‘‘امام قضاعی نے ’’مسند الشھاب ‘‘امام بیہقی نے’’معرفۃ السنن والآثار ‘‘ لکھیں۔ یہ در اصل فن ِتخریج وتحقیق کے متعلق کتب ہیں۔ اس فن کا آغاز چو تھی اور پانچویں ہجری میں ہوچکا تھا، لیکن اس فن پر مستقل کام چھٹی صدی ہجری سے عام ہوا، مثلاًامام ابوالفضل محمد بن طاہر مقدسی نے ’’أحادیث الشھاب ‘‘ لکھی، جس میں انہوں نے قضاعی کی احادیث کو مسند بیان کیا۔۔علامہ دیلمی نے اپنے والد کی کتاب ’’مسند الفردوس ‘‘کی تخریج اپنی کتاب ’’أحادیث کتاب الفردوس ‘‘ میں کی اور اسے حروفِ تہجی کے اعتبار سے مرتب کیا۔ علامہ زیلعی نے فقہ حنفی کی معروف کتاب ’’الھدایہ ‘‘کی تخر یج کی، جس کا نا م’’نصب [1] ( مقدمہ صحیح مسلم:۴۵۳).