کتاب: تخریج وتحقیق کے اصول وضوابط - صفحہ 108
خزیمہ نے کہا کہ یہ زنا دقہ (مجو سیوں اور پا رسیوں )کا گھڑا ہوا قصہ ہے۔ (مفاتیح الغیب للر ازی:۲۳/۵۰)علا مہ ابو بکر ابن العربی نے دس اسباب کی بنا پر اسے با طل قرار دیا ہے (احکا م القرآن:۲/۷۴،۷۵)علامہ رازی نے ائمہ فن سے اس کا با طل اور من گھڑت ہو نا نقل کیا ہے (تفسیر الرازی:۲۳، ۵۰)جو با ت باطل اور من گھڑت ہو وہ حسن لغیرہ کبھی نہیں ہو سکتی فافھم محدثین کا اسماعیل بن ابی خالد کے عنعنہ کو قبول کرنا: متعدد متقدمین محدثین نے اسماعیل بن ابی خالد کے بدونِ تدلیس عنعنہ کو قبول کیا ہے لیکن ہمارے اساتذہ کرام میں سے بعض علماء ان کی عن والی روایات کو ضعیف کہتے ہیں، مثلادیکھئے:اسماعیل بن ابی خالد عنعن وھو مدلس (طبقات المدلسین:362 وھو من الثالثۃ) [1] منھجِ متقدمین اور منھجِ متاخرین ! حسن لغیرہ کے مسئلے میں کہا جاتا ہے کہ متقدمین کو لیا جائے گا، لیکن دیگر مقامات پر اپنے غلط اصول کے مقابلے میں متقدمین کی ہی بڑے زور سے مخالفت کی جاتی ہے اس پر ہمارے پاس متعدد مثالیں ہیں۔ تحقیق حدیث میں متقدمین کی مخالفت کی مثال 1 داڑھی کے خلال کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ہکذا أمرنی ربی مجھے میرے رب نے اسی طرح حکم دیا ہے۔ اس کے متعلق لکھا گیا:’’ اسنادہ ضعیف۔ولید بن زوران:لیّن الحدیث (تق:7423)وللحدیث شاہد ضعیف عندا لحاکم [1] (انوار الصحیفۃ فی الاحادیث الضعیفۃ من السنن الاربعۃ:ص :106ح2930، ص 152ح 4270).