کتاب: تجوید کی تدریس کے طریقے - صفحہ 97
وَ غَاشٌّ بِلَا مِرْیَۃٍ، فَقَدْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم : اَلدِّیْنُ النَّصِیْحَۃُ: لِلّٰہِ، وَ لِکِتَابِہٖ، وَ لِرَسُوْلِہٖ، وَ لِأَئِمَّۃِ الْمُسْلِمِیْنَ وَ عَامَّتِھِمْ۔))[1] ’’اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ امت جس طرح قرآن مجید کے معنی ومفہوم سمجھنے اور اس کی حدود کی پاسداری کی پابند ہے اسی طرح اس پر یہ بھی لازم ہے کہ وہ اس کے الفاظ کو صحیح طرح ادا کرے اور اس کے حروف کو اس طرح سیدھا کرے جس طرح ان ائمہ نے کیا کہ جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے قریب تھے اور ان کی عربی بھی فصیح تھی۔قرآن مجید کی ادائیگی میں ان ائمہ کی مخالفت اور ان کے طریقے کو چھوڑنا کسی طور درست نہیں ہے۔ اس مسئلے میں لوگ یا تو ایسے نیکوکار ہیں کہ جنہیں اجر دیا جائے گا یا پھر گناہ گار ہیں یا معذور ہیں۔ پس جس شخص کو یہ قدرت حاصل ہو کہ وہ قرآن مجید کے الفاظ کو فصیح عربی میں ادا کر سکے اور اس کے باوجود اپنے آپ کو مستغنی سمجھتے ہوئے یا اپنی رائے اور عقل پر اعتماد کرتے ہوئے یا اپنے حفظ کیے ہوئے سے مانوسیت کے سبب سے یا کسی دوسرے عالم دین کی طرف رجوع میں عار محسوس کرنے کے سبب سے قرآن مجید کے الفاظ کو بازاری عجمی یا نبطی الفاظ کی طرح ادا کرے تو بلاشبہ ایسا شخص گناہ گاراور خائن ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: دین نصیحت ہے: اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، اس کے رسول کے لیے، مسلمانوں کے حکمرانوں کے لیے اور ان کے عوام کے لیے۔‘‘ رہی اس شخص کی بات کہ جس کی زبان اس کے قابو میں نہ آتی ہو یا جس کی رہنمائی کرنے والا کوئی نہ ہو تو اللہ تعالیٰ کسی بھی جان کو اس کا مکلف نہیں بناتا کہ جس کی وہ قدرت نہ رکھتی ہو۔ پس امام ابن الجزری رحمہ اللہ کی اس تفصیل سے شبہات دور ہو جاتے ہیں اور اختلاف ختم ہو جاتا ہے۔اور تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ [1] النشر فی القراء ات العشر: ۱-۲۱۰۔۲۱۱.