کتاب: تجوید کی تدریس کے طریقے - صفحہ 90
’’اللہ تعالی نے بہترین بات نازل کی ہے جو ملتی جلتی آیات کی صورت میں ہے اور یہ بار بار دہرائی جانے والی آیات ہیں۔ جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں، اسے سن کر ان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ پھر ان کے دل اور جلد اللہ کی یاد سے نرم پڑ جاتے ہیں۔‘‘ آپ نے دیکھا ہو گا کہ بعض قراء حضرات کسی مناسبت سے کسی جگہ تلاوت کرتے ہیں تو عوام الناس ان کی تلاوت سننے کے لیے جمع ہوتے ہیں لیکن عوام کا مقصود قرآن مجید میں غوروفکر یا خشوع وخضوع نہیں ہوتا بلکہ وہ محض اس قاری کی آواز، لہجہ اور اختراع سننے کے لیے آتے ہیں۔ بعض قراء کو آپ سنیں گے تو محسوس ہو گا کہ وہ دل سے نہیں پڑھتے بلکہ صرف زبان سے پڑھتے ہیں اور قرآن مجید ان کے حلق سے نیچے نہیں اترتا۔ نہ تو وہ امر بالمعروف کا کام کرتے ہیں اور نہ ہی نہی عن المنکر سے کام لیتے ہیں۔ لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ، ایسی حرکتوں سے ہم اللہ ہی کی پناہ مانگتے ہیں۔ ۳۔ یہ چیز بھی تلاوت کے آداب میں شامل ہے کہ قرآن مجید کو ٹھہر ٹھہر کر سکون سے پڑھے اور بے چینی کی کیفیت میں نہ پڑھے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِیْلًا﴾ (المزمل: ۴) ’’اور آپ قرآن مجید کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں۔‘‘ اسی طرح حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں ہے: ((کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم یَقْرَأُ بِالسُّوْرَۃِ فَیُرَتِّلُھَا حَتّٰی تَکُوْنَ أَطْوَلَ مِنْ أَطْوَلَ مِنْھَا۔))[1] ’’اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب قرآن مجید کی کسی سورت کی تلاوت کرتے تھے تو اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے یہاں تک کہ وہ قرآن مجید کی طویل ترین سورتوں سے [1] صحیح مسلم: ۱-۵۰۷.