کتاب: تجوید کی تدریس کے طریقے - صفحہ 86
اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم مُسْتَفِیْضَۃٌ عِنْدَ الْعَامَّۃِ وَ الْخَاصَّۃِ۔))[1] ’’سلف صالحین، صحابہ، تابعین، ائمہ مسلمین اور ما بعد کے علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قرآن مجید کو خوبصورت آواز سے پڑھنا مستحب ہے۔ اور اس بارے ان کے اقوال اور افعال معروف ومشہور ہیں۔ہم ان اقوال اور افعال کو ایک ایک کر کے نقل کرنے سے اس لیے بے نیازی محسوس کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں اس کے دلائل ہر عام وخاص کے لیے موجود ہیں۔‘‘ آگے چل کر امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ((قَالَ عُلَمَائُ رَحِمَھُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی: فَیُسْتَحَبُّ تَحْسِیْنُ الصَّوْتِ بِالْقِرَائَ ۃِ وَ تَزْیِیْنُھَا مَا لَمْ یَخْرُجْ عَنْ حَدِّ الْقِرَائَ ۃِ بِالتَّمْطِیْطِ، فَإِنْ أَفْرَطَ حَتّٰی زَادَ حَرْفًا أَوْ أَخْفَاہُ فَھُوَ حَرَامٌ۔ ثُمَّ نُقِلَ عَنْ قَاضِی الْقُضَاۃِ فِیْ کِتَابِہِ الْحَاوِیْ قَوْلُہٗ: اَلْقِرَائَ ۃُ بِالْأَلْحَانِ الْمَوْضُوْعَۃِ إِنْ أَخْرَجَتْ لَفْظَ الْقُرْاٰنِ عَنْ صِیْغَتِہٖ بِإِدْخَالِ حَرَکَاتٍ فِیْہِ، أَوْ إِخْرَاجِ حَرَکَاتٍ مِّنْہُ، أَوْ قَصْرِ مَمْدُوْدٍ أَوْ مَدِّ مَقْصُوْرٍ، وَ تَمْطِیْطٍ یَخِلُّ بِہِ اللَّفْظُ وَ یَلْتَبِسُ بِہِ الْمَعْنٰی فَھُوَ حَرَامٌ یَفْسُقُ بِہِ الْقَارِیئُ، وَ یَأْثَمُ بِہِ الْمُسْتَمِعُ، لِأَنَّہٗ عَدْلٌ بِہٖ عَنْ نَّھْجِہِ الْقَوِیْمِ إِلَی الْإِعْوِجَاجِ وَ اللّٰہُ تَعَالٰی یَقُوْلُ ﴿قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا غَیْرَ ذِیْ عِوَجٍ﴾ قَالَ: فَإِنْ لَّمْ یُخْرِجْہُ اللَّحْنُ عَنْ لَّفْظِہٖ وَقِرَائَ تِہٖ عَلٰی تَرْتِیْلِہٖ کَانَ مُبَاحًا لِّأَنَّہٗ زَادَ لَہٗ بِأَلْحَانِہٖ فِیْ تَحْسِیْنِہٖ۔ وَ عَلَّقَ النَّوَوِیُّ عَلٰی ھٰذَا بِقَوْلِہٖ: وَ ھٰذَا الْقِسْمُ الْأَوَّلُ مِنَ الْقِرَائَ ۃِ بِالْأَلْحَانِ الْمُحَرَّمَۃِ مَعْصِیَۃٌ ابْتُلِیَ بِھَا بَعْضُ الْعَوَامِ الْجَھَلَۃِ، وَ الطُّغَامِ الْغَشَمَۃِ، اَلَّذِیْنَ یَقْرَؤُوْنَ عَلَی [1] التبیان: ص۱۵۰.