کتاب: تجوید کی تدریس کے طریقے - صفحہ 79
وَالَّذِیْ یَقْرَأُ الْقُرْاٰنَ وَ یَتَتَعْتَعُ فِیْہِ وَ ھُوَ عَلَیْہِ شَآقٌّ لَّہٗ أَجْرَانِ۔))[1] ’’جو شخص قرآن مجید کی تلاوت کرتا ہو اور وہ ماہر ہو تو اس کا حشر لکھنے والے بزرگ نیکوکار فرشتوں کے ساتھ ہو گا اور جو شخص قرآن مجید کی تلاوت تو کرتا ہو لیکن اس میں اٹکتا ہو اور اس پر وہ دشوار ہوتا ہو تو اس کے لیے دوگنا اجر ہے۔‘‘ اسی طرح عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کی روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((یُقَالُ یَعْنِیْ لِصَاحِبِ الْقُرْاٰنِ: اقْرَأْ وَارْقَ وَ رَتِّلْ کَمَا کُنْتَ تُرَتِّلُ فِی الدُّنْیَا فَإِنَّ مَنْزِلَتَکَ عِنْدَ اٰخِرِ اٰیَۃٍ تَقْرَؤُھَا۔))[2] ’’صاحب قرآن سے کہا جائے گا کہ تو پڑھ اور جنت کے درجات چڑھ اوراس طرح پڑھ جیسا کہ تو دنیا میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھتا تھا۔ اور تیری آخری منزل وہ ہے جہاں تو آخری آیت کی تلاوت کرے گا۔‘‘ اسی طرح بعض روایات میں یہ بھی نقل ہوا ہے کہ قرآن مجید قیامت کے دن اس شخص کی سفارش کرے گا جو صاحب قرآن ہے یعنی اسے کثرت سے پڑھتا تھا۔اسی لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن مجید کی تلاوت کی ترغیب دلائی ہے تا کہ اس کی صحبت کا درجہ حاصل ہو سکے۔ایک روایت کے مطابق آپ نے فرمایا: ((اِقْرَأُوا الْقُرْاٰنَ فَإِنَّہٗ یَأْتِیْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ شَفِیْعًا لِّأَصْحَابِہٖ۔))[3] ’’قرآن مجید کی تلاوت کرو کہ یہ قیامت والے اپنے اصحاب کی سفارش کرے گا۔‘‘ تلاوت کلام کی اس فضیلت اور مقام پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے مال واسباب اور زیب وزینت میں سے کوئی بھی چیز ایسی نہیں ہے کہ جس پر دوسروں سے رشک کیا جائے سوائے تلاوت ِقرآن مجید اور اللہ کے رستے میں خرچ کرنے کے۔ [1] صحیح البخاری: ۸-۵۳۲. [2] سنن أبو داؤد، کتاب الصلاۃ، باب استحباب الترتیل فی القراء ۃ. [3] صحیح مسلم: ۱-۸۰۴.