کتاب: تجوید کی تدریس کے طریقے - صفحہ 66
خَالِصًا لِوَجْہِ اللّٰہِ تَعَالٰی وَ لَا یُنَافِیْ لَکَ أَخْذَ الْأُجْرَۃِ الَّتِیْ یُقْضٰیْ بِھَا حَوَائِجُہٗ۔))[1] ’’یہ حدیث اصول اسلام میں سے ہے۔ پس یہ واجب ہے کہ ہر شخص کا عمل خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے ہواور اجرت حاصل کرنا کہ جس کے ذریعے انسان اپنی ضروریات پوری کرے، رضائے الہٰی کے حصول کے منافی نہیں ہے۔‘‘ ۲۔ تواضع اور انکساری: استاذ اپنے طلبا کے ہاں اپنے آپ کو بڑا ثابت کرنے کی کوشش نہ کرے بلکہ تواضع اختیار کرے اور ان کے ساتھ شفقت سے پیش آئے۔ اگر طلبا اس میں تکبر اور خود پسندی دیکھیں گے تو اس سے بھاگ جائیں گے اور علم کی برکات اٹھ جائیں گی۔ اسی طرح اپنے علم پر غرور کرنے سے اجتناب کرے اور یہ خیال نہ کرے کہ اس کا علم طلبا کو دیگر اساتذہ سے مستغنی کر دے گا۔ اور یہ بھی نہ ہو کہ استاذ ناپسند جانے کہ اس کے طلبا کسی اور استاذ سے علم حاصل کریں۔امام نووی رحمہ اللہ نے کہا ہے: ((وَ ھٰذِہٖ مُصِیْبَۃٌ یُّبْتَلٰی بِھَا بَعْضُ الْمُعَلِّمِیْنَ الْجَاھِلِیْنَ وَ ھِیَ دَلَالَۃٌ بَیِّنَۃٌ مِّنْ صَاحِبِھَا عَلٰی سُوْئِ نِیَّتِہٖ، وَ فَسَادِ طَوِیَّتِہٖ، بَلْ ھِیَ حُجَّۃٌ قَاطِعَۃٌ عَلٰی عَدَمِ إِرَادَتِہٖ بِتَعْلِیْمِہٖ لِوَجْہِ اللّٰہِ الْکَرِیْمِ، فَإِنَّہٗ لَوْ أَرَادَ اللّٰہُ تَعَالٰی بِتَعْلِیْمِہٖ لَمَا کَرِہَ ذٰلِکَ بَلْ قَالَ لِنَفْسِہٖ: أَنَا أَرَدْتُّ الطَّاعَۃَ بِتَعْلِیْمِہٖ وَ قَدْ حَصَلْتُ، وَ ھُوَ قَصَدَ بِقِرَائَ تِہٖ عَلٰی غَیْرِیْ زِیَادَۃَ عِلْمٍ فَلَا عَتْبَ عَلَیْہِ۔))[2] ’’یہ ایک ایسی مصیبت ہے کہ جس میں بعض جاہل مدرسین مبتلا ہیں۔ اور یہ کسی شخص کی نیت اور باطن کے فاسد ہونے کی واضح دلیل ہے۔بلکہ یہ اس بات کی [1] التبیان: ص ۲۹. [2] أیضًا.