کتاب: تجوید کی تدریس کے طریقے - صفحہ 61
کے غلاف، لفافے یا تھیلی میں اٹھائے اور کھولے، چاہے یہ کپڑا کسی مرد، عورت یا بچے کا ہو، اور چاہے یہ کپڑا اوپر ہو یا نیچے۔ واللہ اعلم۔‘‘ اسی طرح ابن قدامہ رحمہ اللہ نے کہا ہے: ((وَ یَجُوْزُ حَمْلُہٗ بِعَلَاقَتِہٖ۔))[1] ’’مصحف کے غلاف کے ساتھ اسے اٹھایا جا سکتا ہے۔‘‘ اور اس کی علت یہ بیان کی ہے: ((لِأَنَّہٗ غَیْرُ مَاسٍّ لَّہٗ، فَلَمْ یُمْنَعْ مِنْہُ، کَمَا لَوْ حَمَلَہٗ فِیْ رَحْلِہٖ، وَ لِأَنَّ النَّھْیَ إِنَّمَا یَتَنَاوَلُ الْمَسَّ، وَ الْحَمْلُ لَیْسَ بِمَسٍّ، فَلَمْ یَتَنَاوَلْہُ النَّھْیُ۔))[2] ’’اس طرح وہ مصحف کو نہیں چھو رہا ہے لہٰذا یہ ممنوع نہیں ہے۔اسی طرح اگر اس نے مصحف کو اپنی رحل میں رکھا ہے تو یہ بھی جائز ہے کیونکہ ممانعت صرف چھونے کی ہے اور رحل میں رکھنے سے چھونا لازم نہیں آتا لہٰذا یہ ممانعت میں داخل نہیں ہے۔‘‘ اس کے بعد کہتے ہیں: ((وَ عَلٰی ھٰذَا لَوْ حَمَلَہٗ بِعَلَاقَۃٍ، أَوْ بِحَائِلٍ بَیْنَہٗ وَ بَیْنَہٗ مِمَّا لَا یَتَّبِعُہٗ فِی الْبَیْعِ جَازَ لِمَا ذَکَرْنَا۔))[3] ’’پس اس بحث کا نتیجہ یہ ہے کہ اگر اس نے کسی ایسی رکاوٹ کے ساتھ مصحف کو اٹھایا کہ جو بیع میں اس کے تابع نہ ہو[یعنی وہ رکاوٹ مصحف کے ساتھ مستقل ملحق نہ ہو] تو یہ جائز ہے۔‘‘ [1] المغنی:۱-۲۰۳. [2] المغنی:۱-۲۰۳. [3] المغنی:۱-۲۰۳.