کتاب: تجوید کی تدریس کے طریقے - صفحہ 57
اسی سے ہدایت مل جائے۔ البتہ میں اس بات کو ناپسند جانتا ہوں کہ کوئی مسلمان کسی عیسائی کو آیت کی تعلیم دے کیونکہ وہ جنبی کی مانند ہے۔ امام احمد رحمہ اللہ سے بھی مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ مجھے یہ ناپسند ہے کہ قرآن مجید ایسے شخص کو سکھایا جائے جو اس کا محل نہیں۔ اسی طرح ان سے یہ بھی مروی ہے کہ اگر مجھے غیر مسلم سے ہدایت کی امید ہو تو جائز ہے ورنہ نہیں۔‘‘ ابن حجر رحمہ اللہ نے ایک دوسرے مقام پر یہ کہا ہے: ((وَ ھٰذِہِ الْمَسْئَلَۃُ مِمَّا اخْتَلَفَ فِیْہِ السَّلَفُ فَمَنَعَ مَالِکٌ مِّنْ تَعْلِیْمِ الْکَافِرِ لِلْقُرْاٰنِ، وَ رَخَّصَ أَبُوْ حَنِیْفَۃَ، وَ اخْتَلَفَ قَوْلُ الشَّافِعِیِّ، وَ الَّذِیْ یَظْھَرُ أَنَّ الرَّاجِحَ التَّفْصِیْلُ بَیْنَ مَنْ یُّرْجٰی مِنْہُ الرَّغْبَۃُ فِی الدِّیْنِ وَ الدُّخُوْلُ فِیْہِ مَعَ الْأَمْنِ مِنْہُ أَنْ یَتَسَلَّطَ بِذٰلِکَ إِلَی الطَّعْنِ فِیْہِ، وَ بَیْنَ مَنْ یَّتَحَقَّقُ أَنَّ ذٰلِکَ لَا یَنْجَحُ فِیْہِ أَوْ یُظَنُّ أَنَّہٗ یَتَوَصَّلُ بِذٰلِکَ إِلَی الطَّعْنِ فِی الدِّیْنِ وَ اللّٰہُ أَعْلَمُ وَیُفَرَّقُ أَیْضًا بَیْنَ الْقَلِیْلِ مِنْہُ وَ الْکَثِیْرِ۔))[1] ’’یہ ایک ایسا مسئلہ ہے کہ جس میں سلف صالحین کا اختلاف ہے، امام مالک رحمہ اللہ نے غیر مسلم کو قرآن مجید کی تعلیم دینے سے منع کیا ہے جبکہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اس بارے رخصت کے قائل ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ سے اس بارے مختلف اقوال مروی ہیں۔ بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک اس مسئلے میں تفصیل ہے اور وہ اس غیر مسلم،کہ جس سے دین اسلام قبول کرنے کی امید ہو اور یہ بھی خوف نہ ہو کہ وہ دین اسلام میں طعن کرنے کے لیے قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرے گا، اور اس میں فرق کرتے ہیں کہ جس کافر کی ہدایت کی امید نہ ہو اور اس سے یہ بھی گمان ہو کہ وہ قرآن مجید کی تعلیم حاصل کر کے دین اسلام پر طعن کرے گا۔ [1] فتح الباری: ۶-۱۲۶.