کتاب: تجوید کی تدریس کے طریقے - صفحہ 52
أَیُعْطِیْ عَلٰی کِتَابِ اللّٰہِ عَزَّ وَ جَّلَ۔))[1] ’’حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ معلوم ہوا کہ سعد رضی اللہ عنہ نے قرآن مجید پڑھنے والوں کا دو ہزار وظیفہ مقرر کیاہے تو اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اف! کیا وہ اللہ کی کتاب پر مال دے گا!‘‘ علماء کی مستقل کمیٹی سے جب حفظ قرآن کے مقابلہ جات میں انعامات کے وصول کرنے کے بارے سوال ہوا تو انہوں نے جواب دیا: ((لَا حَرَجَ فِیْ ذٰلِکَ وَ لَا فَرْقَ بَیْنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَائِ فِیْ ھٰذَا الْأَمْرِ۔))[2] ’’اس میں کوئی حرج نہیں ہے، مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے یہ جائز ہے۔‘‘ اسی طرح ان سے یہ بھی سوال ہو اکہ عورتوں کے قرآن مجید ترتیل سے پڑھنے کے مقابلہ جات اگر مردوں کی موجودگی میں منعقد کیے جائیں تو اس پر کمیٹی نے جواب دیا: ((تَرْتِیْلُ الْبِنَاتِ لِلْقُرْاٰنِ بِحَضْرَۃِ الرِّجَالِ لَا یَجُوْزُ، لِمَا یَخْشَی فِیْ ذٰلِکَ مِنَ الْفِتْنَۃِ بِھِنَّ، وَ قَدْ جَائَ تِ الشَّرِیْعَۃُ بِسَدِّ الذَّرَائِعِ الْمُفْضِیَۃِ لِلْحَرَامِ۔))[3] ’’مردوں کی موجودگی میں لڑکیوں کا قرآن مجید ترتیل سے پڑھنا درست نہیں ہے کیونکہ اس میں ان کے لیے فتنے کے امکانات ہیں اور شریعت اسلامیہ ایسے تمام وسائل پر قدغن لگاتی ہے جو حرام کی طرف لے جانے کا ذریعہ بنتے ہوں۔‘‘ میرے خیال میں چونکہ تلاوت میں حسن ِصوت مطلوب ہے، اور اگرکوئی عورت مردوں کی موجودگی میں اپنی آواز کو خوبصورت بنانے کی کوشش کرے گی تو ممنوع کا ارتکاب کرے گی۔ [1] منتخب کنز العمال: ۱-۳۹۸. [2] فتاوی اللجنۃ الدائمۃ: ۴-۸۸. [3] أیضاً: ۴-۱۲۷.