کتاب: تجوید کی تدریس کے طریقے - صفحہ 48
((حُکْمُ أُجْرَۃِ الْمُدَرِّسِیْنَ الَّذِیْنَ یُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ کِتَابَ اللّٰہِ لَیْسَ فِیْھَا شَیْئٌ لِعُمُوْمِ قَوْلِہٖ: اِنَّ أَحَقَّ مَا أَخَذْتُمْ عَلَیہِ أَجْرًا کِتَابُ اللّٰہِ۔))[1] ’’جو مدرسین کتاب اللہ کی تعلیم پر اجرت لیتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ آپ کے ارشاد کہ’ بہترین چیز جس پر تم اجرت وصول کرو، اللہ کی کتاب ہے‘کے عموم سے اس کا جواز ثابت ہوتا ہے۔‘‘ شاید ہم نے اس مسئلہ میں کافی لمبی بحث کر دی ہے کیونکہ یہ ایک ایسا اہم بلکہ اصولی مسئلہ تھاجو اس کتاب کی بنیاد ہے۔چونکہ اس کتاب کے ذریعے ہم مدرسین اور مدرسین کالجز کے طلباء کو مخاطب کر رہے ہیں لہٰذا یہ ضرور ی محسوس ہوا کہ اس مسئلے کی اچھی طرح وضاحت ہو جائے۔ ۲… قرآن مجید کی تعلیم پر نمایاں طلباء کی حوصلہ افزائی کے لیے دیے جانے والے انعامات کا حکم اللہ تعالی نے اس امت اور اس کے حکمرانوں کو اس بات کی توفیق دی کہ وہ قرآن مجید کی تعلیم وتعلم کا اہتمام کریں۔ پس قرآن مجید کی تعلیم پھیل گئی، مدارس عام ہو گئے اور حفظ قرآن کی کلاسز تو بہت زیادہ ہیں۔ ہمارے ملک میں تو قرآن مجید کو تمام درجات کی تعلیم میں بطور نصاب شامل کیا گیا ہے۔ سعودی حکومت نے حفظ قرآن کے ابتدائی، متوسط اور اعلی درجہ کے مدارس قائم کرنے کا اہتمام کیا ہے اور ہماری اکثر مساجد میں بھی حفظ قرآن کی کلاسز قائم کی گئی ہے اور یہی صورت حال تقریباً دیگر اسلامی ممالک میں بھی ہے۔ اس صورت حال میں قرآن مجیدکی تلاوت و حفظ پر حوصلہ افزائی کے لیے کئی رستے اختیار کیے گئے جن میں نمایاں طلباء کے لیے جو مکمل قرآن مجید یا اس کا ایک متعین حصہ یادکریں، ماہنامہ وظائف اور دیگر دنیاوی انعامات بھی شامل ہوتے ہیں۔بلکہ اب تو یہ [1] فتاوی اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ والإفتاء: ۴-۹۱.