کتاب: تجوید کی تدریس کے طریقے - صفحہ 47
اور یونیورسٹی کے درجات کی تعلیم بھی شامل ہے۔حفظ قرآن کے لیے مخصوص مدارس بلکہ قرآن کالجز اور علوم قرآن کی تدریس کا تقاضا یہ ہے کہ مدرسین قرآن کی ایک بڑی تعداد اس کام کے لیے فارغ ہو۔ اگر یہ مدرسین دیگر سرکاری ملازمین کی طرح اجرت نہیں لیں گے تو قرآن مجید کی نشر واشاعت اور تعلیم وتدریس میں کمی واقع ہو جائے گی کیونکہ اتنی بڑی تعداد میں فی سبیل اللہ قرآن مجید کی تعلیم دینے والوں کا ملنا مشکل بلکہ ناممکن ہو جائے گا۔ اس لیے ہماری رائے میں سرکاری یا عوامی مدارس میں تعلیم قرآن کی متعین اجرت لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ جہاں تک مساجد میں حفظ قرآن کی کلاسز پر اجرت وصول کرنے کا معاملہ ہے، جو اصحاب خیر کے تعاون سے چلتی ہیں، تو ان میں بہتر صورت یہی ہے کہ کسی متعین اجرت کی شرط نہ لگائے اور وہ اپنی مرضی سے جو دے دیں اسے قبول کر لے۔ اور اگر وہ کچھ بھی نہ دیں تو اس صورت میں بھی بہتر ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث، تم میں سے بہترین وہ ہیں جو قرآن مجید سیکھیں اور سکھائیں، کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے آپ کو سوال کرنے سے بچائے۔ بلاشبہ اس کارِخیر کا بدلہ اور معاوضہ اللہ کے ہاں بہت زیادہ ہے اور وہ جنت ہے۔حضرت ابوہریرۃ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ خَافَ أَدْلَجَ، وَ مَنْ أَدْلَجَ بَلَغَ الْمَنْزِلَ، أَلَا إِنَّ سِلْعَۃَ اللّٰہِ غَالِیَۃٌ، أَلَا إِنَّ سِلْعَۃَ اللّٰہِ الْجَنَّۃُ۔))[1] ’’جسے لٹ جانے کا اندیشہ ہوتا ہے تو وہ رات کے آخر حصے میں سفر کرتا ہے۔ اور جو رات کے آخر حصے میں سفر کرتا ہے تو منزل کو پہنچ جاتا ہے۔ خبردار! اللہ کا سامان بہت مہنگا ہے اور وہ جنت ہے۔‘‘ مستقل کمیٹی برائے تحقیق وافتاء نے مدرسین قرآن کی اجرت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا ہے: [1] سنن الترمذی: ۴-۶۳۳.