کتاب: تجوید کی تدریس کے طریقے - صفحہ 41
اس پر عمل کو پس پشت ڈال دے اور آخرت کے مقابلے میں صرف دنیاوی اجر پر ہی اکتفا کر لے۔ پس اس روایت میں تجوید کے ساتھ قرآن پڑھنے یا اجرت حاصل کرنے کی ممانعت نہیں ہے بلکہ مقصود یہ ہے کہ اگر کوئی قرآن مجید پر عمل اور اس پر اجر وثواب کے بالمقابل محض حروف کے سیدھا کرنے اور اجرت وصول کرنے ہی کو مقصود بنا لے گا تو یہ حرام ہے۔ جیسا کہ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا کہنا ہے: ((إِذَا کَانَ لَا یَقْرَأُ الْقُرْاٰنَ إِلَّا لِأَجْلِ الْعُرُوْضِ فَلَا ثَوَابَ لَھُمْ عَلٰی ذٰلِکَ))[1] ’’اگر کوئی شخص محض اجرت کے لیے قرآن پڑھے گا تو اسے اس کا کچھ اجر وثواب نہ ملے گا۔‘‘ حضرت عبادۃاور أبی بن کعب رضی اللہ عنہما کی روایت کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم تھا کہ ان دو صحابیوں نے یہ تعلیم خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے دی تھی لہٰذا آپ نے ان حضرات کو ہدیہ لینے سے منع کر دیا۔جیسا کہ امام خطابی رحمہ اللہ نے کہا ہے: ((تَأَوَّلَ الْمُجِیْزُوْنَ حَدِیْثَ عُبَادَۃَ عَلٰی أَنَّہٗ أَمْرٌ کَانَ تَبَرَّعَ بِہٖ وَنَوَی الْاِحْتِسَابَ فِیْہِ وَ لَمْ یَکُنْ قَصْدُہٗ وَقْتَ التَّعْلِیْمِ إِلٰی طَلَبٍ عِوَضٍ وَ نَفْعٍ فَحَذَّرَہُ النَّبِیُّ صلي اللّٰه عليه وسلم إِبْطَالَ أَجْرِہٖ وَ تَوَعَّدَہٗ عَلَیْہِ وَکَانَ سَبِیْلُ عُبَادَۃَ فِیْ ھٰذَا سَبِیْلُ مَنْ رَدَّ ضَالَّۃَ الرَّجُلِ أَوِ اسْتَخْرَجَ لَہٗ مَتَاعًا قَدْ غَرِقَ فِیْ بَحْرٍ تَبَرُّعًا وَ حُسْبَۃً فَلَیْسَ لَہٗ أَنْ یَّأْخُذَ عَلَیْہِ عِوَضًا، وَ لَوْ أَنَّہٗ طَلَبَ لِذٰلِکَ أُجْرَۃً قَبْلَ أَنْ یَّفْعَلَہٗ حُسْبَۃً کَانَ ذٰلِکَ جَائِزًا، وَ أَھْلُ الصُّفَّۃِ قَوْمٌ فُقَرَائُ کَانُوْا یَعِیْشُوْنَ بِصَدَقَۃِ النَّاسِ فَأَخَذَ الرَّجُلُ الْمَالَ مِنْھُمْ مَّکْرُوْہٌ وَ دَفْعُہٗ إِلَیْھِمْ مُسْتَحَبٌّ۔))[2] [1] مجموع الفتاوی: ۲۴-۳۱۶. [2] معالم السنن: ۳-۹۹۔۱۰۰.