کتاب: تجوید کی تدریس کے طریقے - صفحہ 38
کیونکہ اس میں تعلیم وتدریس ہو رہی ہے۔ اہل علم کا اس بارے اختلاف ہے کہ تدریس قرآن پر اجرت حاصل کی جا سکتی ہے یا نہیں۔ اس بارے دو اقوال مروی ہیں: پہلا قول: حنفیہ اور حنابلہ کے راجح قول کے مطابق تعلیم قرآن کی اجرت حاصل کرنا جائز نہیں ہے۔ ابن عابدین رحمہ اللہ نے اپنے ’حاشیہ‘ میں لکھا ہے کہ مذہب حنفی میں اصل رائے یہ ہے کہ قرآن مجید کی تعلیم کی اجرت لینا درست نہیں ہے اور متقدمین حنفی علماء کا اس پر اتفاق ہے۔ لیکن بعد میں آنے والوں نے ضرورت کے تحت اسے جائز قرار دیا جیسا کہ ’’بلخ‘‘ کے حنفی مشائخ کا قول ہے۔اسی طرح ’’مطالب أولی النھی‘‘ میں تعلیم قرآن مجید کی اجرت لینے کو حرام قرار دینے کے بعد یہ کہا گیا ہے کہ یہی حنفی مذہب کا قول ہے اور جمہور حنفی علماء اسی کے قائل ہیں۔علاوہ ازیں ’’ابن منجا‘‘ وغیرہ نے بھی اسے ہی صحیح ترین قول قرار دیا ہے اور ’’الوجیز‘‘اور دوسری کتب میں بھی اسے ہی قطعی قول قرار دیا گیا ہے۔ اس قول کے قائلین کے دلائل درج ذیل ہیں: ۱۔ حضرت عبد الرحمن بن شبل رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ انہوں نے کہاکہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ فرما رہے تھے: ((اِقْرَؤُوا الْقُرْاٰنَ وَ لَا تَغْلُوْا فِیْہِ وَ لَا تَجْفُوْا عَنْہُ وَ لَا تَأْکُلُوْا بِہٖ وَلَا تَسْتَکْثِرُوْا بِہٖ۔))[1] ’’قرآن پڑھو اور اس میں غلو نہ کرو۔ اس سے اعراض نہ کرو اور نہ اس سے کھاؤ اور نہ ہی اس کے ذریعے مال سمیٹو۔‘‘ ۲۔ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو صحابہ کی ایک جماعت قرآن مجید کی تلاوت کر رہی تھی تو آپ نے فرمایا: ((اِقْرَؤُوا الْقُرْاٰنَ وَ ابْتَغُوْا بِہِ اللّٰہَ عَزَّ وَ جَلَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ یَّأْتِیَ قَوْمٌ [1] مسند أحمد: ۳-۴۲۸.