کتاب: تجوید کی تدریس کے طریقے - صفحہ 37
الْحَافِظَۃِ، وَ أَبْقٰی فِی الذَّاکِرَۃِ، وَ أَوْقَعُ فِی الْقَلْبِ، وَ أَشَدُّ انْطِبَاعًا فِی النَّفْسِ۔))[1] ’’بچوں کو قرآن مجید کی تعلیم دینا اصول اسلام میں سے ہے کیونکہ بچوں کی پرورش فطرت سلیمہ پر ہوتی ہے لہٰذا ان کے دل خواہشات کی آماجگاہ بننے اور معصیت وگمراہی کی سیاہی سے پہلے حکمت کے انوار سے پُر ہوتے ہیں۔ پس چھوٹے بچوں اور بچیوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ بچپن ہی سے انہیں قرآن مجید کی تعلیم پر ڈال دیا جائے تا کہ ان کا یہ پختہ عقیدہ قائم ہو کہ اللہ سبحانہ وتعالی ان کا رب ہے اور قرآن مجید اس کا کلام ہے۔ اور یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس سے ان کے دلوں میں قرآن مجید کی محبت راسخ ہو گی اور ان کے اذہان، افکار، صلاحیتیں اور حواس اس کے نور سے روشن ہوں گے۔ اس طرح ہم بچپن میں ہی قرآنی عقائد سیکھ لیں گے اور ہماری جوانی اور بڑھاپا قرآنی اخلاق کی روشنی میں گزرے گا۔ ہم اس کے احکامات پر عمل اور اس کے نواہی سے اجتناب کریں گے۔ اور یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ بچپن کا حفظ پختہ ہوتا ہے اور دیر تک یاد رہتا ہے۔ دل میں اتر جاتا ہے اور نفس پر اس کا اثر نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔‘‘ قرآن مجید کی تدریس کے احکام اور آداب: جب قرآن مجید کی درس وتدریس کا یہ مرتبہ ہو تو بلاشبہ اس بارے کچھ احکامات اور آداب ایسے ہوں گے کہ جن کا التزام بہت ضروری ہے۔ یہاں ہم قرآن مجید کی تدریس کے چند احکامات بیان کر رہے ہیں: ۱… قرآن مجید کی تدریس پر اجرت لینا ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم قرآن مجید کی تدریس اور محض تلاوت پر اجرت حاصل کرنے میں فر ق کریں اور یہ جان لیں کہ دوسری صورت درست نہیں ہے جبکہ پہلی جائز ہے [1] فضائل القرآن لابن کثیر: ص۷۴۔۷۵.