کتاب: تجوید کی تدریس کے طریقے - صفحہ 197
اس آیت کا آخر بھی مفتوح ہے لیکن فتحہ مبنی ہونے کی وجہ سے ہے۔ استاذ دونوں آیات کی تین وجوہ کے ساتھ تلاوت کرے اور طلباء کو یہ واضح کرے کہ جب عارضی سکون کی اصل فتحہ ہو، چاہے وہ معرب ہونے کی بناء پر ہو یا مبنی، تو اس سے ما قبل حرف ِمد میں وقف کے وقت تین وجوہ جائز ہیں یعنی چھ حرکات، چار حرکات اور محض سکون کے ساتھ دو حرکات۔[1] پھر استاذ درج ذیل آیت لکھے: ﴿وَاللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ﴾ اس آیت کا آخر معرب ہونے کی بناء پر مکسور ہے۔ اور استاذ یہ آیت بھی لکھے: ﴿فَبِأَیِّ آلَائِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ﴾ اس آیت کا آخر مبنی ہونے کی بناء پر مکسور ہے۔ استاذ دونوں آیات کی تین وجوہ کے ساتھ تلاوت کرے۔پھر ان دونوں مثالوں میں رَوم کے ساتھ قصر کرے کیونکہ رَوم قصر ہی کی طرح ہے۔[2] اس سے طلباء کو یہ معلوم ہو گا کہ جب مد ِعارض کا آخر معرب یا مبنی ہونے کی بناء پر مکسور ہو تو اس میں چار وجوہ جائز ہیں اور چوتھی وجہ قصر مع الروم ہے۔ پھر استاذ یہ آیت لکھے: ﴿ہَلْ جَزَاء الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ﴾ [1] محض سکون سے مراد خالص سکون ہے کہ جس میں رَوم یا اشمام نہ ہو. [2] رَوم سے مراد مخفی آواز کے ساتھ حرکت کا ایک جزء اس طرح ادا کرنا کہ کان لگا کر قریب بیٹھا ہوا تو اسے سن سکے لیکن دور والا نہ سن سکے۔ یہ اس لیے جائز ہے کہ یہ معلوم ہو سکے کہ کلمہ کی اعرابی حالت کسرہ ہے۔ اور یہ مجرور اور مرفوع میں بھی جائز ہے جبکہ اشمام کے قراء کے عرف میں چار معانی ہیں: (ا) ایک حرف کو دوسرے کے ساتھ خلط کرنا جیسا کہ لفظ ’’صراط‘‘ میں ہے اور لفظ ’’أصدق‘‘ اور ’’مصطیر‘‘ بھی اس کی مثالوں میں شامل ہیں۔ (ب) ایک حرکت کودوسری کے ساتھ خلط کرنا جیسا کہ لفظ ’’قیل‘‘ اور ’’غیض‘‘ وغیرہ میں ہے۔ (ج) حرکت کو اس طرح چھپانا کہ سکون اور حرکت کے بین بین محسوس ہو جیسا کہ﴿تَاْمَنَّا عَلَی یُوسُفَ﴾ میں ہے۔ (د) حرف کے سکون کے بعد دونوں ہونٹوں کو ملانااور یہ وقف میں ہوتا ہے۔ (إبراز المعانی من حرز المعانی: ص۵۶).