کتاب: تجوید کی تدریس کے طریقے - صفحہ 185
طلباء سے ان دونوں مدوں کے مابین فرق معلوم کرے۔ طلباء کو اس سے یہ واضح ہو گا کہ اگر ہمزہ کسی کلمہ کے آخر میں ہو اور اس پر وقف بھی ہو تو اس صورت میں مد کو چار، پانچ یا چھ حرکات تک بھی کھینچ سکتے ہیں۔ اعلیٰ تعلیمی مراحل اور تخصص کی کلاسز: استاذ اپنے طلباء کو اس موضوع پر مزید بحث کرواتے ہوئے انہیں ہمزہ کی اس قسم میں جائز وجوہ کی طرف متوجہ کرے کہ اگر ہمزہ متطرفہ پر وقف ہو تو فتحہ، کسرہ یا ضمہ کی صورت میں اسے کس طرح پڑھ سکتے ہیں۔ پہلی قسم: جس میں ہمزہ پر فتحہ ہو، چاہے وہ معرب ہونے کی بناء پر ہو یا مبنی، اور اس پر وقف کرنا صحیح ہو۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿کَذَلِکَ لِنَصْرِفَ عَنْہُ السُّوء َ وَالْفَحْشَائَ﴾ اور ﴿بَلْ إِیَّاہُ تَدْعُونَ فَیَکْشِفُ مَا تَدْعُونَ إِلَیْہِ إِنْ شَائَ﴾ پس استاذ اس آیت مبارکہ کو تین مرتبہ تلاوت کرے۔ پہلی مرتبہ مد کو سکون محض کے ساتھ چار حرکات، دوسری مرتبہ پانچ حرکات اور تیسری مرتبہ چھ حرکات کے برابر کھینچے۔ اس سے طلباء یہ نتیجہ نکالیں گے کہ جب ہمزہ کسی کلمہ کے آخر میں متصل ہو اور اس پر معرب یا مبنی ہونے کی بناء پر فتحہ ہو تو اس پر خالص سکون کے ساتھ تین وجوہ میں وقف جائز ہے۔ دوسری قسم: وہ ہمزہ کہ جس پر کسرہ ہو، چاہے معرب ہونے کی وجہ سے کسرہ ہو جیسا کہ درج ذیل آیت میں ہے: ﴿أَنجَیْنَا الَّذِیْنَ یَنْہَوْنَ عَنِ السُّوْٓئِ﴾[1] [1] مہموز مفتوح پر طالب علم کے لیے دو طرح وقف جائز ہے۔ ایک قسم کا بیان تو اوپر گزر چکا کہ ا ختیاری یا اضطراری حالت میں مذکورہ بالا تین وجوہ میں سے کسی ایک وجہ کے ساتھ وقف کیا جا سکتا ہے۔ لیکن استاذ کو چاہیے کہ طالب علم کو یہ بھی بتائے کہ وہ مہموز جو مبنی ہونے کی بناء پر مفتوح ہو تو وہ فعل ماضی ہے اور یہ قرآن مجید میں دو طرح سے نقل ہوا ہے: اول: ایک صورت تو یہ ہے کہ یہ جملہ مستانفہ کے طور آئے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ﴿وَجَائَ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفّاً صَفّاً﴾ اور ﴿وَجَائَ فِرْعَوْنُ وَمَن قَبْلَہُ وَالْمُؤْتَفِکَاتُ بِالْخَاطِئَۃِ ﴾ اور ﴿سَآئَ مَثَلاً الْقَوْمُ الَّذِیْنَ کَذَّبُواْ بِآیَاتِنَا وَأَنفُسَہُمْ کَانُواْ یَظْلِمُونَ﴾ میں ہے۔ پس طالب علم کو یہ واضح ہو گا کہ فعل ﴿وَجَائَ﴾ اور ﴿سَائَ﴾ میں اختیاری وقف جائز نہیں ہے کیونکہ فعل کو اپنے فاعل کی شدت سے ضرورت ہے۔ پس یہاں صرف اضطراری حالت میں وقف جائز ہے کہ جس میں نفس پر قابو نہ ہو یا تعلیم کی غرض سے جیسا کہ گزر چکا۔ دوم:دوسری صورت یہ ہے کہ جملہ کے آخر میں آئے اور معنی مکمل ہو چکا ہو جیسا کہ قول باری تعالیٰ ﴿وَلاَ یُحِیْطُونَ بِشَیْْء ٍ مِّنْ عِلْمِہِ إِلاَّ بِمَا شَآء َ﴾ میں ہے۔ اس میں وقف جائز ہے کیونکہ فاعل ضمیر ِمستتر ہے اور مشیت کا مفعول محذوف ہے کہ جس کی تقدیر’’أن یعلمھم بہ‘‘ ہے.