کتاب: تجوید کی تدریس کے طریقے - صفحہ 163
اس کے بعد وہ انہیں یہ واضح کرے کہ اگرساکن لام ِفعل کے بعد نون آئے تواظہار ہو گا اگرچہ دونوں مخارج کے اعتبار سے متقاربین میں سے ہیں اور اس بارے دو باتیں قابل وجہ ہیں۔[1] قواعد میں اختلاف ہو جائے تو ان میں نقل کو بنیاد بنایا جائے گا۔ دوسری بات یہ ہے کہ ساکن لامِ فعل کے نون میں ادغام سے فعل کے معنی میں کوئی ابہام پیدا نہیں ہونا چاہیے مثلاً لفظ ﴿أَرْسَلْنَا﴾ ادغام کے بعد ﴿أَرْسَنَّا﴾ بن جائے۔ یہاں لامِ فعل اصلی ہے اور اصلی لام میں اظہار زیادہ بہتر ہے جبکہ سبعہ قراء کا اس کے اظہار پر اجماع بھی ہے۔ [1] بعض علمائے تجوید نے نون سے پہلے لامِ فعل کے اظہار کی جو علت بیان کی ہے، وہ محل ِنظر ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ نون کا لام میں بغیر غنہ کے ادغام ہوتا ہے اور[اس کے برعکس] یہ درست نہیں ہے کہ[ لام یا] کسی حرف کا نون میں ادغام اس خوف سے کیا جائے کہ نون اور اس کے اخوات (یرملون) میں الفت ختم ہو جائے گی۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ جلیل القدر ائمہ سے تواتر سے یہ روایت منقول ہے کہ ساکن لامِ فعل کا نون کے ساتھ اظہار ہو گا اور ہماری نظر میں یہ تعلیل درست نہیں ہے۔ دونوں حروف مخرج کے اعتبار سے متقارب ہیں۔ ان میں سے ایک کا دوسرے میں ادغام محض یہ ثابت کرتا ہے کہ مدغم اور مدغم فیہ میں الفت موجود ہے اور حروفِ متقاربین یا متجانسین میں دوسرے حرف کے پہلے آجانے سے الفت ختم نہیں ہوتی۔ اور لامِ ساکن کا نون میں ادغام، نون کے ساتھ لام تعریف میں بالفعل واقع ہوا ہے اور وہ اس کی یہ تعلیل بیان کرتے ہیں کہ لام ِ تعریف کے بعد نون کا واقع ہونا بہت زیادہ ہے لہٰذا لام کا نون میں ادغام ادائیگی میں تسہیل کی غرض سے ہے۔ جبکہ لام ِفعل کے بعد نون کا وقوع قرآن مجید میں بہت کم ہے لہٰذا اس کے اظہار میں مشقت نہیں ہے۔ ان کا یہ جواب بھی محل ِ نظر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لام ِفعل ساکن کے بعد نون کا وقوع قرآن مجید میں بہت زیادہ ہے جیسا کہ صرف لفظ ﴿جعلنا﴾ قرآن مجید میں ۱۱۸ بار آیا ہے جبکہ اس کے علاوہ الفاظ مثلاً قلنا، أرسلنا، أنزلنا اور جعلنا اس کے علاوہ ہیں۔ لہٰذا اس بارے صحیح توجیہ وہی ہے جو ہم نے بیان کر دی ہے۔ لامِ ساکن کا نون میں ادغام مطلقاً ممنوع نہیں ہے۔ امام کسائی نے لامِ حرف کا نون میں ادغام کیا ہے اور وہ قراء سبعہ میں سے ہیں۔ اس سے ہماری اس توجیہہ کی تاکید ثابت ہوتی ہے جو ہم نے لامِ فعل کے نون کے ساتھ اظہار کے سبب کے طور بیان کی ہے۔ امام ابن الجزری نے ’’ النشر‘‘ میں کہا ہے یہ لامِ ھل اور لامِ بل کی فصل ہے جیسا کہ امام اصبہانی نے ’’المبسوط فی القراء ات العشر‘‘ میں کہا ہے.