کتاب: تجوید کی تدریس کے طریقے - صفحہ 142
مقام ہے اور اس کا حکم اقلاب کا ہے۔[1] اس کے ساتھ استاذ اقلاب کی ادائیگی کی کیفیت کے بارے بھی بحث کرے اور طلباء کے سامنے مثالیں اس طرح رکھے کہ انہیں یہ واضح ہو سکے کہ اقلاب تین مراحل میں ادا ہوتا ہے: (۱) نون ساکن یا تنوین کو میم میں تبدیل کرنا۔ (۲) میم کو باء میں چھپانا۔ (۳) اخفاء کے ساتھ غنہ کو ظاہر کرنا۔ اس کے ساتھ استاذ اپنے طلباء کو اقلاب کے فائدہ کے بارے بھی بتلائے اور کسی ایک مثال کی تین پہلوؤں سے تلاوت کرے: ۱۔ نون ساکن کی تلاوت کرے جو باء سے پہلے ہو اور اس میں اظہار کرے۔ ۲۔ نون ساکن کی تلاوت کرے اور اس کا ما بعد باء میں ادغام کرے اور اس کی ادائیگی زبان پر ثقیل محسوس ہو گی۔ ۳۔ نون ساکن کو ایسے میم میں بدلتے ہوئے پڑھے کہ جسے باء میں چھپایا گیا ہو اور غنہ کو ظاہر کیا گیا ہو۔ اس کے بعد استاذ تینوں کیفیات میں فرق کے بارے طلباء کو آگاہ کرے۔طلباء یہ جان سکیں گے کہ جس کیفیت میں نون ساکن یا تنوین کو میم سے تبدیل کرتے ہیں وہ اس کیفیت کی نسبت بہت ہی آسان ہے کہ جس میں نون ساکن یا تنوین کی میم کے ساتھ ادائیگی کی جاتی ہے۔ طلباء یہ بھی جان لیں گے کہ بقیہ حروف ہجائی کی نسبت میم ہی ایک ایسا حرف ہے جو جمیع صفات میں مشترک ہونے کے اعتبار سے نون کے مماثل ہے جبکہ مخرج کے اعتبار سے باء کے ساتھ متحد ہے۔ [1] اس کی مانند ﴿وَلَیَکُوناً مِّنَ الصّٰغِرِینَ﴾ بھی ہے۔ اس میں تنوین درحقیقت نون خفیفہ ہے جو فعل سے متصل ہے۔ جو تنوین کے مشابہہ ہے اور اس کا حکم یہاں غنہ کے ساتھ ادغام ہے.