کتاب: تجوید کی تدریس کے طریقے - صفحہ 120
طالب علم کی تلاوت: طالب علم عملی تطبیق میں غنہ کی ادائیگی کا خیال کرتے ہوئے تلاوت کریں گے۔استاذ کو چاہیے کہ وہ تلاوت کو تمام طلباء پر تقسیم کر ے تاآنکہ وہ اس میں تمام طلباء کی ادائیگی کے درجے سے مطمئن ہو جائے۔ مدرس کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ اپنے سبق میں عملی اجراء کو مرکزی نقطہ بنائے۔ غنہ ایک اعتبار سے زبان کی اعلی درجے کی مہارت ہے۔ پہلے درجے میں اس کا مطالعہ قرآن مجید کی تلاوت کے بنیادی احکام کے ضمن میں کیا جاتا ہے جیسا کہ نون اور میم مشدد، ادغام کے ساتھ غنہ، اخفائے حقیقی، اقلاب، اخفائے شفوی اور مثلین(نون اور میم) کے ادغام میں۔ یہاں سے ایک عمومی مہارت کے طور پر اس کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ حرف مشدد میں زبان کی ایسی مشق سے اس مہارت کی بنیاد رکھی جائے کہ جس میں اس کے اعلی درجات کی ادائیگی کا بھی خیال رکھا گیا ہو۔ طالب علم کے لیے چند نکات: مدرس اپنے طلباء سے حرف مشدد کی اصل کے بارے بحث شروع کرے مثلاً وہ پہلے حرف مشدد کی تلاوت سکون سے کرے یہاں تک کہ طلباء کو یہ معلوم ہو جائے کہ یہ دو متماثل حروف سے مل کر ایک حرف بنا ہوا ہے جن میں سے پہلا ساکن اور دوسرا متحرک ہے۔ پس وہ پہلے کا ادغام دوسرے میں کر دے تو حرف مشدد بن جائے گا۔ پھر استاذ طلباء کو لغت اور اصطلاح میں غنہ کا معنی بتائے اور اس کے مخرج کا بھی ذکر کرے۔ جہاں تک اس کی مقدار کا تعلق ہے تو استاذکسی مشدد حرف غنہ کی تلاوت کے ذریعے استنباط کے طریقے سے اس کی مقدار سکھا سکتا ہے۔[1]
[1] غنہ کی مقدار دو حرکات ہے۔ اور ایک حرکت کی مقدار کا انداز اوسط درجے کی حرکت کے ساتھ انگلی کو بند کرنے سے کھولنے کے وقفہ سے لگایا جائے گا۔ اکثر علمائے تجوید کی یہی رائے ہے۔ کچھ دوسرے علماء کا کہنا یہ ہے کہ ایک حرکت سے مراد وہ وقت ہے جو کسی حرف تہجی کو کوئی قاری نسبتاً تیزی سے ادا کرتے ہوئے لگائے۔پس جس حرف کا کھینچنا دو حرکات کے برابر ہو تو وہ غنہ کی مقدار ہے یعنی دو حرفوں کی ادائیگی کی مقدار۔ (فتح المجید شرح کتاب العمید فی علم التجوید: ۸۱).